Business
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا اے آئی بیسڈ قرضوں کا ریکارڈ
اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے مالی سال 2026 کے دوران مصنوعی ذہانت پر مبنی انڈر رائٹنگ انجن کے ذریعے تقریباً ایک ٹریلین روپے کے ایم ایس ایم ای قرضے جاری کیے۔ بینک کا یہ جدید نظام فراڈ کی روک تھام اور کسٹمر کیئر سمیت دیگر امور میں بھی کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے مالی سال 2026 کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ٹیکنالوجی کا شاندار استعمال کرتے ہوئے لگ بھگ ایک ٹریلین روپے کے ایم ایس ایم ای (MSME) قرضوں کی انڈر رائٹنگ کی ہے۔ بینک کے اعلیٰ حکام کے مطابق اس اقدام سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے عمل میں نہ صرف تیزی آئی ہے بلکہ شفافیت بھی نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔
بینک کی جانب سے استعمال کیے جانے والے اس جدید اے آئی انڈر رائٹنگ انجن میں جی ایس ٹی (GST)، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، کریڈٹ بیورو اور دیگر مستند ڈیٹا کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت قرضوں کی منظوری کا روایتی اور طویل عمل اب انتہائی مختصر ہو گیا ہے، جس سے کاروباری حضرات کو بروقت فنڈز کی دستیابی یقینی بن رہی ہے اور بینک کی کارکردگی میں بھی گراں قدر اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
صرف قرضوں کی فراہمی تک محدود نہیں رہتے ہوئے، اسٹیٹ بینک آف انڈیا اس جدید ٹیکنالوجی کو فراڈ کی قبل از وقت نشاندہی، کسٹمر کیئر سروسز کی بہتری اور چیک پروسیسنگ کے انتہائی اہم امور میں بھی کامیابی کے ساتھ بروئے کار لا رہا ہے۔ بینک کی اس حکمت عملی سے نہ صرف آپریٹنگ اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ صارفین کو بھی بہترین اور تیز رفتار ڈیجیٹل بینکاری خدمات فراہم ہو رہی ہیں۔
ماہرین معاشیات اور بینکاری کے شعبے سے وابستہ افراد نے ایس بی آئی کے اس قدم کو ڈیجیٹل انڈیا کے وژن کی سمت ایک بڑا سنگ میل قرار دیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اے آئی ٹیکنالوجی کے مزید وسیع استعمال سے بھارتی معیشت بالخصوص چھوٹے کاروباروں کو مزید استحکام ملے گا اور مالیاتی خدمات تک رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔