LIVE
Loading Breaking News...

97 فیصد سی ای اوز کا اے آئی کا استعمال، قانونی اور انجینئرنگ کے شعبے سرفہرست

News Image
حال ہی میں سامنے آنے والے انک 5000 کے اعدادوشمار سے انکشاف ہوا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کے اعلیٰ ترین عہدے داروں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے روزمرہ کے امور میں مصنوعی ذہانت سے مدد لے رہی ہے۔ اس رجحان کے تحت قانونی امور اور روزمرہ کے انتظامی فیصلوں میں اے آئی کا استعمال سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
جدید انک 5000 کے حالیہ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کارپوریٹ دنیا کے تقریباً تمام ہی اعلیٰ ترین عہدے دار یعنی سی ای اوز اپنے روزمرہ کے پیشہ ورانہ امور میں مصنوعی ذہانت (AI) پر تیزی سے انحصار کر رہے ہیں۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ کارپوریٹ سیکٹر میں اے آئی کا استعمال اب محض ایک نیا رجحان نہیں رہا بلکہ یہ کاروباری روزمرہ کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جہاں 97 فیصد ایگزیکٹوز اس ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے مختلف استعمالات میں قانونی امور کی معاونت اور روزمرہ کی کاروباری فیصلہ سازی کے عمل کو سب سے زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ قانون سے متعلق پیچیدہ دستاویزات کی جانچ پڑتال، معاہدوں کا جائزہ اور ضابطہ کار کی تعمیل جیسے امور میں اے آئی نے سی ای اوز اور ان کی قانونی ٹیموں کا کام انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، تکنیکی شعبوں جیسے کہ انجینئرنگ اور آپریشنز میں بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے، جس سے کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ لیڈرشپ کی جانب سے اے آئی کو اتنے بڑے پیمانے پر اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کا بزنس ماڈیول مکمل طور پر ڈیجیٹل اور خودکار نظاموں پر منحصر ہوگا۔ کمپنیوں کے سربراہان اپنے فیصلوں کو زیادہ درست اور کم وقت میں حتمی شکل دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز اور ڈیٹا اینالیٹکس پر بھروسا کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے نہ صرف وقت کی بچت ہو رہی ہے بلکہ انسانی خطوط پر ہونے والی غلطیوں کے امکانات بھی کم سے کم ہو رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ اے آئی کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا اور یہ صرف انتظامی فیصلوں یا قانونی معاونت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کاروباری حکمت عملیوں کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرے گا۔ کارپوریٹ دنیا کے یہ تبدیل ہوتے ہوئے رجحانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جو کمپنیاں اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں جلدی کر رہی ہیں، وہ مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی اور کامیاب ثابت ہو رہی ہیں۔