World
عالمی سیاست میں نیا آمریت پسند اتحاد، چین روس ایران اور شمالی کوریا کا گٹھ جوڑ
دنیا کی سرکردہ آمریتیں چین، روس، ایران اور شمالی کوریا مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے وسائل پر انحصار بڑھا رہی ہیں۔ اس نئے تزویراتی اتحاد نے واشنگٹن اور دیگر مغربی جمہوریتوں کے لیے بین الاقوامی طاقت توازن کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دنیا کی سرکردہ آمریتیں جن میں چین، روس، ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں، مغربی ممالک کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیزی سے ایک دوسرے کے وسائل پر انحصار بڑھا رہی ہیں۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان ممالک کا یہ باہمی تعاون عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور واشنگٹن کے لیے ایک بہت بڑا اسٹریٹجک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکی اور مغربی دارالحکومتوں میں اس بڑھتی ہوئی قربت کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ چاروں ممالک پہلے ہی مختلف پابندیوں اور تنقید کی زد میں ہیں۔
اس نئے غیر اعلانیہ اتحاد کے تحت، یہ ممالک نہ صرف معاشی اور تجارتی سطح پر ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ عسکری اور سفارتی میدان میں بھی ان کی ہم آہنگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس اور چین کے درمیان توانائی اور تجارت کے شعبوں میں گہرے تعلقات قائم ہیں، جبکہ ایران اور شمالی کوریا بھی اس چکر میں شامل ہو کر مغربی پابندیوں کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممالک اپنے اندرونی نظام کو مستحکم کرنے اور امریکہ کی قیادت میں قائم عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ صورتحال ایک پیچیدہ تزویراتی مخمصہ پیدا کر رہی ہے۔ ایک طرف مغربی ممالک انمماک پر دباؤ بڑھانے کے خواہاں ہیں، تو دوسری طرف ان کا باہمی اتحاد اس دباؤ کے اثرات کو کم کر دیتا ہے۔ امریکی پالیسی ساز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس ابھرتے ہوئے خطرے سے کیسے نمٹا جائے جو عالمی امن اور جمہوری اقدار کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارت کاری میں اس اتحاد کے اثرات مزید واضح ہونے کی توقع ہے، جس سے دنیا ایک بار پھر سرد جنگ جیسی صورتحال کی طرف جاتی محسوس ہو رہی ہے۔