Technology
کیا ایل جی کے سمارٹ ٹی وی صارفین کی جاسوسی کر رہے ہیں؟
ایل جی کے سمارٹ ٹی وی اپنی بہترین ڈسپلے اور او ایل ای ڈی خصوصیات کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ تاہم، ان ٹی ویز میں موجود وائس ریکگنیشن اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے فیچرز پر صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایل جی (LG) کے سمارٹ ٹی وی مارکیٹ میں اپنی شاندار ڈسپلے کوالٹی اور جدید او ایل ای ڈی ٹیکنالوجی کی وجہ سے سرفہرست مانے جاتے ہیں۔ کمپنی اپنے صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اپ ڈیٹس اور نئے پکچر موڈز متعارف کراتی رہتی ہے۔ تاہم، ان جدید سہولیات کے پیچھے ایک ایسا پہلو بھی ہے جس پر عام طور پر صارفین کی توجہ کم جاتی ہے، اور وہ ہے ڈیٹا پرائیویسی کے ممکنہ خطرات۔ حالیہ رپورٹس اور ماہرین کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سمارٹ ٹی ویز میں صوتی احکامات (Voice Recognition) اور دیگر اسمارٹ فیچرز کے نام پر صارفین کا کافی زیادہ ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ جب صارفین اپنے ٹی وی پر بول کر چینل بدلنے یا کوئی مواد تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ وائس سسٹمز پس منظر میں فعال رہتے ہیں۔ صوتی ڈیٹا کی اس مسلسل ریکارڈنگ اور پروسیسنگ نے صارفین کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ آیا یہ ڈیوائسز ان کی نجی گفتگو تک تو رسائی حاصل نہیں کر رہی ہیں۔ اگرچہ کمپنیاں اس ڈیٹا کو سروس کے معیار کو بہتر بنانے اور اشتہارات کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن بہت سے صارفین اسے ذاتی زندگی میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی کا مشورہ ہے کہ صارفین کو اپنے سمارٹ ٹی ویز کی سیٹنگز کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔ ٹی وی کی پرائیویسی پالیسی کو پڑھنا اور غیر ضروری وائس ریکگنیشن یا ٹریکنگ فیچرز کو بند کرنا صارفین کے لیے خود کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف نجی گفتگو کے محفوظ رہنے کا امکان بڑھ جاتا ہے بلکہ غیر ضروری ڈیٹا شیئرنگ کو بھی روکا جا سکتا ہے۔