World
فرانس ایران کشیدگی، سزائے موت اور انسانی حقوق پر زبانی جنگ
فرانسیسی حکومت نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے خون خرابہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے فرانس کے اس مؤقف کو دوغلا پن اور شرمناک قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
پیرس اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات میں اس وقت شدید تناؤ پیدا ہو گیا جب فرانسیسی حکام کی جانب سے ایران میں سزائے موت کے کثرت سے استعمال کو خون خرابہ سے تعبیر کیا گیا۔ فرانسیسی وزارتِ خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے ایران میں مظاہرین اور دیگر ملزمان کو دی جانے والی سزائے موت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا، اور بین الاقوامی برادری سے اس معاملے پر سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی ایسی پامالیاں ناقابل قبول ہیں اور دنیا کو اس پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔ اس تنقید کے جواب میں ایرانی حکومت کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے فرانسیسی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پیرس کی پالیسیوں کو دوغلا پن اور شرمناک قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فرانس جیسے ممالک کو دنیا کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں لیکچر دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغرب کا یہ رویہ انتہائی واضح منافقت پر مبنی ہے جو اب پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ مغربی ممالک اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایران کے اندرونی معاملات میں بلاجواز مداخلت کر رہے ہیں۔ یہ تازہ ترین سفارتی بیان بازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی تناؤ کی فضا قائم ہے اور دونوںممالک کے تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق، انسانی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی یہ تازہ زبانی جنگ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید متاثر کر سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس بحث کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔