LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا بیرونی قرضہ 5 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 138.85 ارب ڈالر ہو گیا

News Image
پاکستان کا بیرونی قرضہ اور واجبات بڑھ کر ایک سو اڑتیس ارب پچاسی کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے باوجود مالیاتی مشیر کا کہنا ہے کہ ملک میں قرضوں کی نمو بیس سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
اسلام آباد (نیکسوورا نیوز) پاکستان کے بیرونی قرضوں اور واجبات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد کل بیرونی قرضہ بڑھ کر ایک سو اڑتیس ارب پچاسی کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مختلف عالمی اداروں اور مالیاتی ذرائع سے لیے گئے قرضوں میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس نے ملکی معیشت پر پڑنے والے مالیاتی دباؤ کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ بیرونی کھاتوں کی بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور بیرونی سرمائے کا حصول انتہائی ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، ان اعداد و شمار کے پس منظر میں حکومت اور مالیاتی مشیروں کا دعویٰ ہے کہ تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان میں مجموعی قرضوں کی نمو میں سست روی آئی ہے جو کہ پچھلے بیس سالوں میں سب سے کم سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ مشیرِ خزانہ کے مطابق حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے لیے متعدد سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد ملکی معیشت کو طویل المدتی استحکام کی طرف گامزن کرنا اور قرضوں کے بوجھ کو بتدریج کم کرنا ہے۔ اسی دوران معیشت سے متعلق ایک اور مثبت خبر یہ سامنے آئی ہے کہ ملک کا مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا دو اعشاریہ چھ فیصد رہ گیا ہے، جو کہ گزشتہ بائیس سالوں میں سب سے کم ترین سطح ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں بہتری اور سرکاری اخراجات میں کمی کی وجہ سے یہ اہم سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔ اگرچہ بیرونی قرضوں میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ تشویشناک ہے، تاہم مالیاتی خسارے میں کمی اور قرضوں کی نمو کا بیس سالہ کم ترین سطح پر آنا معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔