LIVE
Loading Breaking News...

واٹر کمپنیوں کے بلوں میں اضافے کی منظوری، صارفین پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ

News Image
برطانیہ کے واٹر ریگولیٹر 'آفواٹ' نے تیرہ واٹر کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے صارفین سے اضافی فنڈز وصول کرنے کی عبوری منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں لاکھوں صارفین کے لیے پانی کے بلوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
برطانیہ کے آبی امور کے نگران ادارے 'آفواٹ' نے تیرہ واٹر کمپنیوں کو یہ عبوری منظوری دے دی ہے کہ وہ اپنے صارفین سے پانی کے بلوں کی مد میں زیادہ رقم وصول کر سکتی ہیں۔ یہ اضافی فنڈز دراصل ملک بھر میں پانی کے پرانے نظام کی بہتری، نئی سرمایہ کاری اور سہولیات کی اپ گریڈیشن کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد پانی کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانا اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنا ہے، تاہم اس فیصلے سے عام صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ واٹر کمپنیوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا تھا کہ ان کا موجودہ مالی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی اخراجات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ پرانی پائپ لائنیں، صفائی کے نظام کی بہتری اور ماحولیاتی معیارات پر پورا اترنے کے لیے بھاری سرمائے کی ضرورت ہے۔ آفواٹ کے اس فیصلے کے بعد ان کمپنیوں کو اپنے منصوبوں کے لیے مالی وسائل اکٹھا کرنے میں آسانی ہوگی، مگر دوسری طرف اس کا براہ راست مالی بوجھ عام شہریوں پر پڑے گا۔ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے والے عوام کے لیے پانی کے بلوں میں مزید اضافہ ناقابل برداشت ہوگا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کمپنیوں کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنے اندرونی وسائل کا استعمال کرنا چاہیے نہ کہ اس کا تمام تر بوجھ صارفین کے ماہانہ بلوں پر ڈالا جائے۔ آفواٹ کا کہنا ہے کہ یہ فی الحال ایک عبوری منظوری ہے اور حتمی فیصلوں سے پہلے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ نگران ادارے کا مقصد ایک طرف کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے بااختیار بنانا ہے تو دوسری طرف صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس بات کا حتمی تعین کیا جائے گا کہ کس کمپنی کو صارفین سے کتنی اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی۔