Health
شدید گرمی کی لہر: ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں مریضوں کا ریکارڈ اضافہ
برطانیہ اور دیگر گرمی سے متاثرہ خطوط میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث گزشتہ تین ماہ کے دوران ہر ماہ چوبیس لاکھ سے زائد افراد نے حادثات اور ایمرجنسی (A&E) کا رخ کیا۔ اس صورتحال پر طبی عملے اور یونینز نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر انسانی حالات سے تعبیر کیا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والے طبی اعداد و شمار کے مطابق شدید گرمی کی لہروں نے طبی نظام پر دباؤ انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہسپتالوں کے حادثات اور ایمرجنسی (A&E) ڈیپارٹمنٹس میں مریضوں کی آمد نے اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں سے ہر ایک مہینے کے دوران اوسطاً چوبیس لاکھ سے زائد افراد نے علاج کے لیے ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کا رخ کیا۔ گرمی کی یہ شدید لہر بالخصوص بزرگ افراد، بچوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے، جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر مختلف ہیلتھ یونینز اور طبی عملے کی تنظیموں نے سخت وارننگ جاری کی ہے۔ یونینز کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی وارڈز میں عملے کی کمی اور شدید حبس و گرمی کے ماحول کی وجہ سے مریضوں اور عملے دونوں کے لیے انتہائی غیر انسانی حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ہسپتالوں کے اندر ائیر کنڈیشنگ کے نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے، جس سے طبی خدمات کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔ماہرینِ صحت نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ گرمی کی اس لہر کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں۔ دوسری جانب، صحت کے حکام اور ہسپتال انتظامیہ اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی اقدامات اور ہنگامی حکمت عملی تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے دباؤ کو قابو میں لایا جا سکے اور مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔