LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں شدید گرمی، 135 ملین افراد متاثر

News Image
یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کے باعث ایک کروڑ چونتیس لاکھ سے زائد افراد کو پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے جو شدید موسم سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔
یورپ میں گرمی کی شدید لہر نے پنجے گاڑ دیے ہیں جس کے نتیجے میں براعظم کے مختلف حصوں میں ایک کروڑ چونتیس لاکھ (135 ملین) سے زائد افراد کو پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے اور طبی ماہرین نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔ یہاں کے کئی علاقے اور شہر شدید گرم موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے اور سہولیات سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ شہری علاقوں میں ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کی وجہ سے درجہ حرارت مزید بڑھ رہا ہے۔ متعلقہ اداروں نے شہریوں کو شدید گرمی کے اوقات میں بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کی ہے جبکہ ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومتیں اور مقامی انتظامیہ بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے پر غور کر رہی ہیں تاکہ عوام کو اس موسمی شدت سے محفوظ رکھا جا سکے ماہرین نے مستقبل میں مزید ایسے چیلنجز کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔