World
اسرائیل کا غزہ سے ملبہ ہٹانا: جنگی جرائم کے شواہد مٹانے کا الزام
حقوق انسانی کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کا ملبہ وہاں سے ہٹا رہا ہے تاکہ جنگی جرائم کے شواہد مٹائے جا سکیں۔ اس عمل کا مقصد خطے کے منظر نامے کو اس طرح تبدیل کرنا ہے کہ وہ ناقابلِ رہائش بن جائے۔
بین الاقوامی حقوق انسانی کی تنظیموں اور ماہرین نے ایک سنگین الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے تباہ شدہ علاقوں سے ملبہ اٹھائے جانے کا بنیادی مقصد جنگی جرائم کے تمام شواہد کو مٹانا اور زمین پر حقائق کو بدلنا ہے۔ محققین کے مطابق، صہیونی ریاست سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ملبے کو باہر منتقل کر رہی ہے تاکہ آنے والے وقت میں تباہی کے اصل پیمانے کا اندازہ نہ لگایا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی عدالتوں میں ہونے والی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ غزہ کے تاریخی اور جغرافیایی خدوخال کو بھی مٹایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس بڑے پیمانے پر ملبے کی اٹھائی اور منتقلی کا ایک اور خطرناک مقصد غزہ کے پورے خطے کو مکمل طور پر ناقابلِ رہائش بنانا ہے۔ بنیادی ڈھانچے، گھروں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے ملبے کو ہٹانے کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے، اس سے زمین کی ساخت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے فلسطینیوں کی اپنی زمین پر واپسی اور مستقبل میں دوبارہ تعمیرِ نو کے عمل کو ناممکن بنانے کی سازش کی جا رہی ہے، تاکہ لوگ کبھی بھی اپنے علاقوں میں آباد نہ ہو سکیں۔
انسانی حقوق کے اداروں نے اس کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سخت نوٹس لے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے ہزاروں لاشیں اور تباہی کے ان گنت نشانات دبے ہوئے ہیں، اور اس ملبے کو ٹھکانے لگانا دراصل انسانیت کے خلاف کیے گئے جرائم کے ثبوتوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور اسرائیل کو اس غیر قانونی اقدام سے باز رکھیں۔
یہ صورتحال غزہ کے محاصرہ زدہ عوام کے لیے ایک اور بڑا المیہ بنتی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف روزانہ کی بنیاد پر بمباری اور انسانی بحران کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف ان کے گھروں کے نشانات تک مٹائے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو عالمی قوانین کے کٹہرے میں لایا جائے۔