Technology
پاکستان کا پہلا چاند روور جناح ون 2029 میں چین کے مشن کے ساتھ روانہ ہوگا
پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو نے ملک کے پہلے چاند کے روور کا نام 'جناح ون' رکھنے کا اعلان کر دیا ہے جو 2029 میں چین کے چانگ ای 8 مشن کے تحت چاند کے جنوبی قطب پر بھیجا جائے گا۔ اس نام کا انتخاب ملک بھر سے موصول ہونے والی چار ہزار تجاویز میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا۔
اسلام آباد (نیکسریا نیوز اردو) پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی 'سپارکو' نے جمعرات کے روز ایک باوقار تقریب میں ملک کے پہلے چاند کے روور کا سرکاری نام 'جناح ون' (Jinnah-1) رکھنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ یہ تاریخی روور سال 2029 میں چین کے خلائی مشن 'چانگ ای 8' (Chang'e-8) کے ساتھ چاند کی طرف روانہ کیا جائے گا، جہاں یہ چاند کے جنوبی قطب پر سائنسی تحقیقات انجام دے گا۔ چاند کا جنوبی قطب اپنی مشکل ترین ارضیاتی ساخت اور اہم سائنسی دریافتوں کی صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر کے خلائی اداروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران سپارکو حکام نے بتایا کہ 'جناح ون' کے نام کے انتخاب کے لیے ملک بھر میں ایک عوامی مقابلہ منعقد کیا گیا تھا جس میں تقریباً چار ہزار تجاویز موصول ہوئیں۔ ان میں سے سات مختلف شرکاء نے 'جناح ون' تجویز کیا تھا، جن میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے فاتح کا انتخاب کیا گیا۔ بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ نوجوان طیب کریم کو اس نام کا فاتح قرار دیا گیا ہے۔ سپارکو کے چیئرمین کے مطابق اس نام کا مقصد بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جاه کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے اور یہ نام پاکستان کے عزم، ترقی اور خلائی تحقیق میں نئے افق کی عکاسی کرتا ہے۔
چین کے ساتھ اس تاریخی اشتراک کا اعلان سب سے پہلے 2024 میں کیا گیا تھا جسے پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ سپارکو کے مطابق پاکستان کا یہ دیسی ساختہ روور چاند پر پلازما، تابکاری اور قمری سطح کی ارضیات کا تفصیلی مطالعہ کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ روور مستقبل کی قمری تحقیقات اور چاند پر انسانی موجودگی کے امکانات کے حوالے سے اہم سائنسی تجربات بھی انجام دے گا۔ یہ مشن پاکستان کو عالمی خلائی دوڑ میں ایک نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ چاند کے جنوبی قطب پر دنیا بھر کے بڑے ممالک کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ امریکی خلائی ادارہ ناسا بھی اپنے آرٹیمیس پروگرام کے تحت اسی خطے میں خلابازوں کو اتارنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک بھی اس خطے میں اپنی موجودگی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سپارکو کا یہ قدم پاکستانی نوجوانوں میں سائنس اور خلائی ٹیکنالوجی کے تئیں دلچسپی کو مزید فروغ دے گا اور ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔