World
مائیکل فراڈے کا قول اور زندگی کا سبق
مشہور سائنسدان مائیکل فراڈے کا کہنا ہے کہ ہر وقت اپنے حق میں ہونے کا یقین خوفناک ہو سکتا ہے۔ یہ قول انسانی زندگی میں حد سے زیادہ خود اعتمادی اور عاجزی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
مشہور برطانوی سائنسدان اور مفکر مائیکل فراڈے کا ایک انتہائی گہرا قول انسانی نفسیات اور رویوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شخص سے زیادہ خوفناک کوئی چیز نہیں جو یہ جانتا ہو کہ وہ بالکل درست ہے۔ یہ جملہ بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے اندر انسانی فطرت، تعصب اور علم کی گہرائی کے کئی اہم راز چھپے ہوئے ہیں۔ زندگی میں اعتماد کا ہونا کامیابی کے لیے لازمی ہے، لیکن جب یہ اعتماد اندھے یقین میں بدل جائے تو یہ معاشرے اور فرد دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تاریخ اور سائنسی تحقیق اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جو لوگ اپنی سوچ اور نظریات کے بارے میں سو فیصد غیر لچکدار رویہ رکھتے ہیں، وہ اکثر نئی معلومات اور خیالات کو قبول کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اس قسم کا رویہ ذہنی جمود کا باعث بنتا ہے۔ جب ایک انسان یہ مان لیتا ہے کہ اس سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی تو وہ سیکھنے کے عمل کو بند کر دیتا ہے۔ مائیکل فراڈے کا یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی علم محدود ہے اور اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا ہی ترقی اور دانش کی طرف پہلا قدم ہے۔
عاجزی اور رواداری کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جب ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہم بھی غلطی پر ہو سکتے ہیں، تو ہم دوسروں کے نکتہ نظر کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ مائیکل فراڈے نے اپنی زندگی میں سائنسی تجربات کے دوران بارہا ناکامیوں کا سامنا کیا اور ہر ناکامی سے نیا سبق سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ فلسفہ آج کے دور میں بھی اتنا ہی اہم اور قابلِ عمل ہے جتنا اس دور میں تھا۔
آخر میں، یہ قول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خود اعتمادی اور تکبر کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے فیصلوں پر یقین ہونا چاہیے لیکن ساتھ ہی اپنے اندر اتنی لچک بھی رکھنی چاہیے کہ اگر ہم غلط ثابت ہوں تو اپنی اصلاح کر سکیں۔ یہی رویہ نہ صرف ذاتی ترقی کا ضامن ہے بلکہ ایک پرامن اور برداشت کرنے والے معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔