LIVE
Loading Breaking News...

چین کے میزائل اور ایران کا دفاعی اتحاد

News Image
چین کی جانب سے ایران کو سینکڑوں کندھے پر اٹھائے جانے والے فضائی دفاعی میزائلوں کی فراہمی نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ اس اقدام سے خلیج فارس میں مغربی فضائی برتری کے سامنے ایک نئی اور چیلنجنگ رکاوٹ کھڑی ہو گئی ہے۔
تہران اور واشنگتن کے درمیان جاری کشیدہ کشمکش کے دوران چین کی جانب سے ایران کو سینکڑوں کندھے پر اٹھائے جانے والے فضائی دفاعی میزائلوں (مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹمز) کی خاموش فراہمی نے ایک فیصلہ کن موڑ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی اور اتحادی کارروائیوں کے بعد ایرانی عسکری ڈھانچے کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں یہ جدید دفاعی کھیپ تہران کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان ہتھیاروں کی آمد سے خلیج فارس میں روایتی مغربی فضائی برتری کو براہ راست چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ پورٹیبل میزائل نظام چھوٹی اکائیوں میں نقل و حرکت کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی فضائی حملوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی یکسر تبدیل ہو رہی ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دفاعی آلات کے ذریعے ایرانی فورسز کم وقت میں مؤثر جوابی ردعمل دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں جغرافیائی سیاسی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی اتحادیوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے خلاف انتہائی مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، تہران کی حکومت اس عسکری تعاون کو خطے میں دفاعی توازن قائم رکھنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔ خلیج فارس کے اس حساس خطے میں یہ نئی پیش رفت آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارت کاری اور عسکری حکمت عملیوں پر گہرے اثرات چھوڑے گی، جس پر عالمی طاقتوں کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔