AI
سنو اے آئی کا بی ایم جی کے ساتھ میوزک لائسنسنگ معاہدہ
مصنوعی ذہانت کی مدد سے گانے تیار کرنے والے مقبول پلیٹ فارم 'سنو' نے معروف میوزک لیبل 'بی ایم جی' کے ساتھ ایک اہم لائسنسنگ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ اے آئی انڈسٹری اور روایتی میوزک انڈسٹری کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے موسیقی تیار کرنے والا معروف اور متنازع پلیٹ فارم 'سنو' (Suno) نے میوزک انڈسٹری کے بڑے نام 'بی ایم جی' (BMG) کے ساتھ ایک اہم لائسنسنگ معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ معاہدہ اے آئی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور روایتی موسیقی کی صنعت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک اور بڑی کڑی ہے، جو مستقبل میں کاپی رائٹ اور لائسنسنگ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔
سنو پلیٹ فارم اپنے طاقتور الگورتھم کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے، جو صارفین کو صرف چند الفاظ (پرامپٹس) کی مدد سے مکمل اور معیاری گانے تیار کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی نے روایتی موسیقاروں، گلوکاروں اور ریکارڈ لیبلز کی طرف سے شدید تنقید کا بھی سامنا کیا ہے کیونکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ اے آئی سسٹمز بغیر اجازت کے کاپی رائٹ شدہ مواد کا استعمال کرتے ہیں۔
بی ایم جی کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ سنو کی تاریخ کا دوسرا بڑا تجارتی اشتراک ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بڑی میوزک کمپنیاں اے آئی کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مل کر کام کرنے اور قانونی دائرہ کار میں لانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے کاپی رائٹ کے احترام اور تخلیق کاروں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے نئی موسیقی کی راہیں تلاش کریں گے۔
انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم دنیا بھر کی ریکارڈنگ انڈسٹری کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے جہاں اے آئی ٹیکنالوجی اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے مثبت اثرات دیگر اے آئیو پلیٹ فارمز اور میوزک لیبلز کے درمیان ہونے والے معاہدوں پر بھی پڑنے کی توقع کی جارہی ہے۔