Health
سورج گرہن سے آنکھوں کو پہنچنے والے نقصان کی علامات اور احتیاطی تدابیر
بغیر حفاظتی چشموں کے سورج گرہن کو دیکھنا بینائی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں دھندلا پن اور دیگر بصری مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سورج گرہن کا نظارہ کرنا ایک دلکش تجربہ ہو سکتا ہے تاہم اس دوران مناسب حفاظتی چشموں کا استعمال نہ کرنا انسانی بینائی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق سورج کی براہ راست خطرناک شعاعیں آنکھوں کے انتہائی حساس پردے یعنی ریٹینا کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں جسے سোলার ریٹینوپیتھی کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں آنکھوں کو بغیر کسی فلٹر یا خصوصی عینک کے دیکھنے کی صورت میں ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں۔
ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے کے فوراً بعد یا کچھ دیر بعد ظاہر ہونے والی علامات میں سب سے نمایاں دھندلا پن ہے۔ متاثرہ افراد کو اشیاء دیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور ان کی نظر کمزور ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بصارت کے وسط میں ایک سیاہ یا سفید دھبہ نمودار ہو سکتا ہے جو مستقل طور پر نظر آ سکتا ہے، رنگوں کی شناخت میں دشواری پیش آ سکتی ہے اور روشنی کے شدید احساس کے باعث آنکھوں میں درد یا جلن کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر کسی مستند آئی سپیشلسٹ یا ماہرِ چشم سے رجوع کرنا انتہائی ضروری ہے۔
طبی ماہرین بارہا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سورج گرہن کے دوران عام دھوپ کے چشمے، ایکس رے شیٹس یا گھر میں بنائے گئے دیگر ذرائع قطعي محفوظ نہیں ہوتے۔ گرہن کے دوران سورج کو دیکھنے کے لیے ہمیشہ بین الاقوامی معیار کے تصدیق شدہ سولر ویونگ گلاسز یا ایکلفیس گلاسز کا استعمال ہی آنکھوں کو اس خطرناک نقصان سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے سائنسی مظاہر کا مشاہدہ کرتے وقت پوری احتیاط برتیں اور اپنی صحت کو خطرے میں نہ ڈالیں۔