LIVE
Loading Breaking News...

اسحاق ڈار کی صومالی قزاقوں کے قبضے میں پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے ہدایات

News Image
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی ملاحوں کی بازیابی کے لیے قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی رابطے مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ملاحوں کے اہل خانہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں گزشتہ کئی مہینوں سے یرغمال بنے ہوئے 10 پاکستانی ملاحوں کی بازیابی کے لیے قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری برقرار رکھیں اور اپنی سفارتی کوششوں میں تیزی لائیں۔ یہ ملاح رواں سال 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحل کے قریب پنت لینڈ کے مقام پر مسلح قزاقوں کی طرف سے اغوا کیے جانے والے تیل بردار بحری جہاز 'ایم ٹی آنر 25' کا عملہ تھے۔ اس جہاز پر دیگر غیر ملکی عملہ بھی سوار ہے جن میں انڈونیشیا، بھارت اور سری لنکا کے شہری شامل ہیں۔ گذشتہ تین ماہ سے زائد عرصے کی قید کے دوران، نہ تو مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت ہو سکی ہے اور نہ ہی قزاقوں کی جانب سے طلب کی جانے والی بھاری رقم کی ادائیگی کا کوئی حل نکلا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے صومالی حکام اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کریں۔ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس معاملے پر پوری طرح متحرک ہے اور انہیں امید ہے کہ مربوط اور مسلسل رابطوں کے نتیجے میں مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور تمام سمندری عملہ بحفاظت اپنے وطن واپس لوٹ آئے گا۔ انہوں نے یرغمال بنائے گئے ملاحوں کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔ یاد رہے کہ اگست کے اوائل میں، قزاقوں کے قبضے میں 100 دن گزرنے کے بعد، اس جہاز کے عملے نے ایک اور ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے حکومت پاکستان سے اپنی فوری رہائی کی اپیل کی تھی۔ ان ویڈیوز میں پاکستانی اور غیر ملکی یرغمالی انتہائی کسمپرس اور پریشان کن حالت میں نظر آئے، جن میں اکثریت بیمار اور کمزور دکھائی دی۔ عملے کے افراد نے یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے پاس صاف پانی، خوراک اور ادویات ختم ہو چکی ہیں، جبکہ جہاز کی ملکیت کے تنازع کی وجہ سے بھی ان کی رہائی کے معاملات میں پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔