Pakistan
ارشد چائے والا کا پاسپورٹ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا متعلقہ حکام کو نوٹس
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وائرل ہونے والے مشہور شخصیت ارشد خان المعروف ارشد چائے والا کے پاسپورٹ کی تجدید نہ ہونے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ارشد خان المعروف 'ارشد چائے والا' کے پاسپورٹ کی عدم تجدید کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ جسٹس عمیر مجید ملک نے مسٹر خان کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر وزارت داخلہ کے توسط سے ڈی جی پاسپورٹس اور فیڈریشن کو نوٹس جاری کیے۔ واضح رہے کہ ارشد خان اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچے تھے جب اسلام آباد میں چائے کے کھوکھے پر کام کرتے ہوئے ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی، جس کے بعد وہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر بھی ابھرے۔
بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران، پٹitioner کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستانی ثقافت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ حکام نے درخواست گزار کی جانب سے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے درخواست دائر کیے جانے کے باوجود تقریباً ایک سال گزر جانے کے باوجود پاسپورٹ جاری نہیں کیا۔ درخواست کے مطابق، ارشد خان نے 20 اگست 2025 کو اپنے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے باقاعدہ درخواست دی تھی، مگر بار بار کی کوششوں کے باوجود انہیں یہ دستاویز فراہم نہیں کی گئی۔
وکیل نے عدالت کو مزید آگاہ کیا کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ نادرا ویریفیکیشن بورڈ سے کلیئر ہو چکا ہے اور ان کا سی این آئی سی اس وقت فعال حالت میں ہے۔ انہوں نے عدالت پر زور دیا کہ جب متعلقہ ادارے نے شناخت کی تصدیق کر دی ہے تو ایسی صورت میں پاسپورٹ روکنے کی کوئی قانونی توجیہہ باقی نہیں رہتی۔ بیرسٹر گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ پٹitioner نے تجدید شدہ پاسپورٹ کے حصول کے لیے سیکرٹری داخلہ کے دفتر سے کئی بار رابطہ کیا لیکن حکام کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا، جس کے بعد سیکرٹری داخلہ کو قانونی نوٹس بھیجا گیا مگر اس کا بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پاسپورٹ جاری کرنے سے مسلسل انکار غیر قانونی ہے اور یہ عمل درخواست گزار کے بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ حکام کو فوری طور پر ارشد خان کا پاسپورٹ جاری کرنے کا حکم دے تاکہ وہ اپنے کاروباری اور ذاتی امور کے سلسلے میں سفری مشکلات سے نجات حاصل کر سکیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے اور کیس کی سماعت جلد متوقع ہے۔