World
اقوام متحدہ مذاکرات سے قبل حیاتیاتی تنوع کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف
اقوام متحدہ کے آنے والے مذاکرات سے قبل جاری ہونے والی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا حیاتیاتی تنوع کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن نہیں ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو کرہ ارض پر قدرتی ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کے اہم مذاکرات سے بالکل پہلے سامنے آنے والی رپورٹس میں یہ تشویشناک حقیقت اجاگر کی گئی ہے کہ دنیا مقررہ ماحولیاتی اور حیاتیاتی اہداف کو حاصل کرنے میں قطعي کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی رہنماؤں اور ماحولیاتی ماہرین کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ قدرتی تنوع کے زوال کی رفتار میں کوئی خاص کمی واقع نہیں ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر پودوں، جانوروں اور ان کے قدرتی مسکن کے تحفظ کے لیے جو وعدے کیے گئے تھے، ان پر عمل درآمد کی رفتار انتہائی سست ہے۔
رپورٹ کے مطابق، صنعتی سرگرمیوں، جنگلات کی کٹائی اور آب و ہوا کی تبدیلیوں نے دنیا بھر کے ماحولیاتی توازن کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ اگرچہ ماضی میں کئی بین الاقوامی معاہدوں کے تحت سنہ دو ہزار تیس تک کے لیے مختلف اہداف طے کیے گئے تھے، لیکن موجودہ اقدامات ان اہداف تک پہنچنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان وسائل کی تقسیم اور مالی معاونت کے امور بھی ان اہداف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
اب تمام نگاہیں اقوام متحدہ کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہیں جہاں دنیا بھر کے نمائندے جمع ہو کر اس بحران سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر غور کریں گے۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومتیں محض زبانی جمع خرچ سے کام لینے کے بجائے زمینی حقائق کے مطابق فوری، سخت اور عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ کرہ ارض کے قدرتی حسن اور حیاتیاتی تنوع کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے بصورت دیگر آئندہ نسلوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔