LIVE
Loading Breaking News...

ماں نے ناشتہ نہ بنانے پر دس سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

News Image
دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک ماں نے مبینہ طور پر اپنی دس سالہ معصوم بیٹی کو صرف اس بات پر موت کے گھاٹ اتار دیا کہ اس نے صبح کا ناشتہ تیار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے ملزمہ ماں کو حراست میں لے کر واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
دنیا کو ہلا دینے والے ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے میں ایک ماں نے مبینہ طور پر اپنی دس سالہ معصوم بیٹی کو صرف اس بات پر موت کے گھاٹ اتار دیا کہ اس نے صبح کا ناشتہ تیار کرنے سے انکار کر دیا۔ اس روح فرسا واقعے نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے رحمی اور گھریلو تشدد کے رجحان پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں گھریلو امور پر ہونے والے معمولی اختلافات جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات اور پولیس ذرائع کے مطابق، ملزمہ ماں نے گھریلو کام کاج کے دوران اپنی دس سالہ بیٹی سے ناشتہ بنانے کا کہا تھا۔ بچی کی طرف سے انکار کیے جانے پر ماں غصے سے آپے سے باہر ہو گئی اور اس نے طیش میں آ کر انتہائی ظالمانہ قدم اٹھایا۔ تشدد اور مبینہ حملے کے نتیجے میں معصوم بچی شدید زخمی ہو گئی اور موقع پر ہی دم توڑ گئی، جس نے پڑوسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی صدمے میں ڈال دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور مقتولہ بچی کی لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ ماں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے ابتدائی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا عزم ہے کہ قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ اس اندوہناک جرم کا انصاف ہو سکے۔ اس المناک واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں اور فلاحی تنظیموں کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گھریلو دباؤ، ذہنی تناؤ اور برداشت کی کمی معاشرے میں اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں رشتوں کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد اس کیس کے تمام حقائق عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔