World
ساؤدی عرب، ترکی اور پاکستان کا نیا دفاعی اتحاد اور اس کے خطے پر اثرات
ساؤدی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ایک نیا طاقت کا محور بننے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ اس ممکنہ اتحاد کو خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ابراہام اکارڈز کی حکمت عملی کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ساؤدی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین گہرے ہوتے ہوئے دفاعی تعلقات نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ تینوں مسلم ممالک مل کر کسی ایسے نئے علاقائی بلاک کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو طویل مدت میں امریکہ کی خطے میں پالیسیوں اور ابراہام اکارڈز کی حکمت عملی کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دفاعی تعاون کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل نقشے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ان تینوں اہم فوجی قوتوں کا قریب آنا خطے میں سکیورٹی کے بدلتے ہوئے محرکات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ترکی کی عسکری اور دفاعی پیداوار، پاکستان کی طویل فوجی مہارت اور سعودی عرب کی معاشی طاقت مل کر ایک ایسا طاقتور مثلث تشکیل دے سکتی ہیں جو روایتی مغربی اتحادوں کے متبادل کے طور پر ابھرے۔ اس ممکنہ پیش رفت نے واشنگٹن اور دیگر مغربی دارالحکومتوں میں بھی پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ یہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتا ہے۔
دوسری جانب، سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے دفاعی معاہدے خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد کسی کے خلاف محاذ آرائی نہ ہو۔ تاہم، ابراہام اکارڈز کے تناظر میں اس نئی صف بندی کو اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ تینوں ممالک اس شراکت داری کو کس حد تک عملی جامہ پہناتے ہیں اور اس کے عالمی سیاست پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔