LIVE
Loading Breaking News...

ڈیجیٹل انڈیا پروگرام: یمنگ ایپ اور ڈیجی لاکر سے سرکاری خدمات تک آسان رسائی

News Image
بھارت میں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے تحت سرکاری خدمات تک شہریوں کی رسائی کو انتہائی آسان اور شفاف بنا دیا گیا ہے۔ یمنگ ایپ پر ہزاروں خدمات اور ڈیجی لاکر کے کروڑوں صارفین ہونے سے عوام کو طویل قطاروں سے نجات مل گئی ہے۔
بھارت میں ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کے آغاز کے بعد سے عوامی خدمات کی فراہمی میں ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے جس کا مقصد شہریوں کے لیے سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کی زحمت کو ختم کرنا ہے۔ جولائی 2015 میں شروع ہونے والے اس وژنری پروگرام کے تحت حکومت نے متعدد ڈیجیٹل اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ ملک کے ہر شہری تک ڈیجیٹل رسائی کو یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری امور میں شفافیت لائی جا سکے۔ اس ڈیجیٹل مہم کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب کروڑوں افراد گھر بیٹھے اپنی ضرورت کی دستاویزات حاصل کر رہے ہیں۔ اس ڈیجیٹل انقلاب میں 'یمنگ' (UMANG) ایپ نے ایک مرکزی کردار ادا کیا ہے جس کے ذریعے اب شہریوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر 2,575 سے زائد سرکاری خدمات میسر ہیں۔ اس ایپ کی بدولت لوگ پیدائش کے سرٹیفکیٹ سے لے کر بلوں کی ادائیگی، پنشن کے امور اور دیگر درجنوں سہولیات اپنے موبائل فون کے ذریعے چند لمحوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت کی بڑی بچت ہوتی ہے بلکہ سرکاری محکموں میں سستی اور بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں کیونکہ تمام لین دین اور درخواستیں ڈیجیٹل طریقے سے ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ دوسری جانب 'ڈیجی لاکر' (DigiLocker) نے بھی شہریوں کی زندگی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے اور اس کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 72 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر عوام اپنے تمام اہم تعلیمی اسناد، شناختی دستاویزات، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر ضروری کاغذات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ٹریفک پولیس یا کسی بھی دوسرے سرکاری ادارے کی جانب سے دستاویزات مانگنے پر فزیکل کاپی ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ ڈیجی لاکر میں موجود مصدقہ ڈیجیٹل کاپی کو قانونی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ڈیجیٹل پش نے نہ صرف گورننس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی میں ڈیجیٹل شمولیت کو بھی یقینی بنایا ہے۔ حکومت کی جانب سے مسلسل ان پلیٹ فارمز کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید نچلی سطح تک پہنچایا جا سکے۔ جیسے جیسے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ہی سرکاری خدمات کی کارکردگی اور رفتار میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جو کہ ایک ترقی یافتہ ڈیجیٹل معاشرے کی علامت ہے۔