LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں پروڈیوسر قیمتوں میں سست روی، معاشی صورتحال پر اثرات

News Image
امریکہ میں جولائی کے مہینے میں پروڈیوسر قیمتوں کا انڈیکس غیر متوقع طور پر فلیٹ رہا جس سے مہنگائی میں کمی کی توقعات کو تقویت ملی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بھی مستحکم دیکھی گئی ہیں اور گیس و خوراک کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکہ میں معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں جولائی کے مہینے میں پروڈیوسر قیمتوں میں اضافہ توقع سے کہیں زیادہ سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔ بلومبرگ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں یو ایس پروڈیوسر प्राइस انڈیکس (PPI) بالکل فلیٹ رہا اور اس میں صفر اعشاریہ صفر فیصد تبدیلی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کور پی پی آئی میں صفر اعشاریہ دو فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین معاشیات اس رپورٹ کو مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی ایک بڑی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس معاشی رپورٹ کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی فوری طور پر محسوس کیے گئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان اعداد و شمار کے اجراء کے بعد اسپاٹ گولڈ (سونا) چار ہزار تین سو ستاسی ڈالر فی اونس کی سطح پر مستحکم رہا۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہول سیل سطح پر مہنگائی کی رفتار سست ہونے کی بنیادی وجہ گیس اور خوراک کی قیمتوں میں ہونے والی کمی ہے۔ واشنگتن پوسٹ کی رپورٹس میں بھی اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران تھوک قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ عام صارفین کے لیے ایک مثبت خبر ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کی لیبر مارکیٹ کے حوالے سے بھی مستحکم اشارے مل رہے ہیں جو ملک کی مجموعی معیشت کے لیے ایک اچھا سگنل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مہنگائی کی شرح میں اسی طرح تسلسل کے ساتھ کمی آتی رہی تو مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنے میں آسانی ہوگی۔ اس تمام صورتحال نے کاروباری برطانوی و امریکی حلقوں میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے اور سرمایہ کار اب آئندہ مالیاتی پالیسی کے بیانات کا انتظار کر رہے ہیں۔