World
آئرلینڈ میں شارک کا حملہ، زخمی مچھیرے کی سنسنی خیز کہانی
آئرلینڈ کے ساحل پر ماہی گیری کے دوران بلیو شارک کے حملے سے شدید زخمی ہونے والے تجربہ کار مچھیرے کا کہنا ہے کہ اسے لگا تھا کہ اب وہ زندہ نہیں بچ پائے گا۔ اس واقعے کے باوجود مچھیرے کا خیال ہے کہ غلطی ان کی اپنی تھی اور مچھلی کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔
آئرلینڈ کے ساحل پر پیش آنے والے ایک سنسنی خیز واقعے میں تجربہ کار مچھیرے کو نیلے رنگ کی شارک (بلیو شارک) نے کاٹ کر شدید زخمی کر دیا۔ متاثرہ مچھیرے کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اب زندہ نہیں بچ پائے گا اور موت اس کے سامنے کھڑی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ سمندر میں مچھلی کا شکار کرنے میں مصروف تھا اور اس نے ایک بلیو شارک کو پکڑنے کی کوشش کی۔
تجربہ کار ہونے کے باوجود، مچھیرہ شارک کے اچانک اور شدید حملے سے خود کو بچانے میں ناکام رہا۔ شارک نے اس کے بازو یا جسم کے دیگر حصوں پر کاٹا جس سے شدید خون بہنے لگا اور وہ گھبرا گیا۔ اس خطرناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ چند لمحوں کے لیے اسے لگا کہ اس کا سفر تمام ہو چکا ہے اور وہ اپنے گھر والوں سے دوبارہ نہیں مل سکے گا۔
تاہم، حیرت انگیز طور پر اس واقعے کے بعد بھی مچھیرے کا رویہ غصے یا نفرت کی بجائے انتہائی مثبت رہا۔ اس کا ماننا ہے کہ سمندر میں مچھلی کا شکار کرتے ہوئے یہ خطرہ موجود رہتا ہے اور اس معاملے میں مچھلی کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں مچھلی ہی برحق تھی کیونکہ وہ اپنی جان بچانے یا دفاع کی کوشش کر رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق بلیو شارک عام طور پر انسانوں پر حملہ نہیں کرتی جب تک کہ انہیں کسی قسم کا خطرہ یا اشتعال نہ دلایا جائے۔
یہ واقعہ دنیا بھر میں تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور سمندری حیات کے شائقین کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں مچھلیوں کا شکار کرنے والوں کو ہمیشہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار حادثات سے بچا جا سکے اور انسان اور سمندری مخلوق دونوں محفوظ رہیں۔