LIVE
Loading Breaking News...

عمان میں تیل کا رساؤ ساحل تک پہنچ گیا، ماحولیاتی خطرات منڈلانے لگے

News Image
عمان کے ساحل کے قریب پھنس جانے والے آئل ٹینکر 'کارولین بیزینگی' سے خام تیل کا بڑا رساؤ ساحلی پٹی تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین ماحولیات نے اس حادثے کے نتیجے میں سمندری حیات اور ساحلی ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عمان کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک سمندری حادثے کے نتیجے میں تیل کا ایک بڑا رساؤ براہ راست ساحلی پٹی تک پہنچ گیا ہے، جس نے علاقائی اور بین الاقوامی ماحولیاتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ رساؤ ایک آئل ٹینکر 'کارولین بیزینگی' (Caroline Bezengi) سے ہو رہا ہے جو کہ کچھ عرصہ قبل عمان کے ساحل کے قریب گراؤنڈ ہونے کے بعد سے مسلسل خام تیل خارج کر رہا ہے۔ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سرگرم ہو گئے ہیں تاکہ اس آلودگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس حادثے کے نتیجے میں ہزاروں گیلن خام تیل سمندر میں پھیل چکا ہے جو اب لہروں کے ساتھ بہہ کر ساحلی علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔ اس صورتحال نے مقامی ماحولیاتی نظام اور سمندری حیات کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا تیل کا رساؤ سمندری پرندوں، مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ تیل کی تہہ پانی کی سطح پر آ جاتی ہے جس سے آکسیجن کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور جانوروں کی جلد یا پروں پر تیل جم جاتا ہے۔ عمان کے متعلقہ حکام نے ماحولیاتی نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے صفائی کے خصوصی آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور ماہرینِ ماحولیات ساحل پر پہنچ کر تیل کو صاف کرنے اور متاثرہ علاقوں کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ ٹینکر سے مزید تیل کے اخراج کو روکنے کے لیے تکنیکی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بڑے ماحولیاتی المیے سے بچا جا سکے۔ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور عمان کی حکومت کو ہر ممکن تکنیکی اور مالی امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس آلودگی کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں، کیونکہ سمندری ماحول کی بحالی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام اور ماحولیاتی کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ ساحلی علاقوں کا رخ کرنے سے گریز کریں تاکہ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔