Business
ٹاٹا گروپ اور این چندrasekaran کا دورِ اقتدار - تفصیلی جائزہ
ٹاٹا گروپ کے چیئرمین این چندrasekaran کا دورِ اقتدار دو حصوں میں تقسیم دکھائی دیتا ہے جس میں پہلا دور شاندار مالیاتی کارکردگی کا حامل رہا۔ دوسرے دور میں گروپ کو متعدد عالمی چیلنجز اور اہم اسٹریٹجک تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
نٹরাজন چندrasekaran کی قیادت میں ٹاٹا گروپ کا سفر ایک ایسے دور سے گزرا ہے جسے تجزیہ کار دو واضح حصوں یا دو کہانیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کی پہلی پانچ سالہ مدتِ ملازمت، جو فروری 2022ء میں اختتام پذیر ہوئی، شاندار مالیاتی اور تجارتی کامیابیوں سے بھرپور تھی۔ اس دوران ٹاٹا گروپ کی سرفہرست کمپنیوں جیسے کہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز یعنی ٹی سی ایس اور ٹاٹا اسٹیل نے انتہائی مضبوط مالیاتی منافع فراہم کیا اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ اس ابتدائی دور میں گروپ کے مجموعی اثاثوں اور مارکیٹ ویلیو میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوا۔ تاہم، ان کے دوسرے دور میں حالات کچھ مختلف رُخ اختیار کرتے دکھائی دیے۔
دوسرے دور میں جہاں ایک طرف عالمی معیشت سست روی کا شکار ہوئی، وہیں سپلائی چین کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی تنازعات نے بھی بڑے پیمانے پر کاروباری ماحول کو متاثر کیا۔ ٹاٹا گروپ کو اس دوران روایتی کاروباروں کے ساتھ ساتھ نئی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں بھی سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مرحلے پر چندrasekaran کی حکمت عملی کا محور روایتی منافع بخش شعبوں سے ہٹ کر مستقبل کی ٹیکنالوجیز، پائیدار توانائی اور نئی ڈیجیٹل سروسز کی طرف منتقل ہوا۔ انہوں نے گروپ کے اندرونی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور مختلف ذیلی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی تاکہ کسی بھی ممکنہ عالمی بحران سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
اس دورِ حکومت کا سب سے بڑا امتحان ایئر انڈیا کی نجکاری کے بعد اسے دوبارہ منافع بخش بنانا اور ٹاٹا گروپ کے پرانے طیاروں اور نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا تھا۔ ایئر انڈیا کی بحالی کا عمل طویل اور پیچیدہ ثابت ہوا، جس کے لیے نہ صرف بھاری سرمائے کی ضرورت تھی بلکہ انتظامی سطح پر بھی بڑی اصلاحات ناگزیر تھیں۔ اس کے باوجود، چندrasekaran نے گروپ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت نے ثابت کیا کہ ایک اتنے بڑے اور متنوع کثیر القومی ادارے کو چلانے کے لیے توازن، صبر اور دور اندیشی کی کتنی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
آنے والے وقت میں ٹاٹا گروپ کے لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ اسٹریٹجک تبدیلیاں طویل مدت میں کس حد تک سودمند ثابت ہوتی ہیں۔ الیکٹرک وہیکلز، سیمی کنڈکٹرز اور گرین انرجی جیسے نئے شعبوں میں گروپ کی بھاری سرمایہ کاری اس بات کی غماز ہے کہ ٹاٹا روایتی صنعتوں سے آگے نکل کر ایک جدید عالمی پاور ہاؤس بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگرچہ پہلے اور دوسرے دور کے درمیان کارکردگی کے توازن میں کچھ فرق ضرور رہا ہے، لیکن مجموعی طور پر نٹরাজন چندrasekaran نے ٹاٹا گروپ کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔