LIVE
Loading Breaking News...

AI Drug Discovery: ادویات کی تیاری میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کا کردار

News Image
مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئی ادویات کی تیاری کے عمل کو مزید تیز اور کم خرچ بنایا جا رہا ہے۔ اس شعبے میں تحقیق کے دوران ڈیٹا کے مسلسل بہاؤ کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ادویات کی تیاری کا شعبہ ہمیشہ سے انتہائی مہنگا اور طویل المدتی خطرات سے بھرپور رہا ہے۔ موجودہ دور میں مارکیٹ کے اندر پہلے قدم کی برتری حاصل کرنے کے لیے شدید دباؤ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے روایتی طریقوں میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ انیسویں صدی کے پچاس کی دہائی سے لے کر اب تک نئی ادویات تیار کرنے کی لاگت میں ہر نو سال کے بعد تقریباً دگنا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کہ اس صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال اس شعبے میں گیم چنجر ثابت ہو رہا ہے، جو تحقیق اور ترقی کے عمل کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ادویات کی تیاری کے اس پورے عمل میں 'ڈیٹا لوپ' یا اعداد و شمار کے بند چکر کو کامیابی کے ساتھ بند کرنا سب سے اہم مرحلہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تجرباتی نتائج سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو دوبارہ اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کرنا ہے تاکہ پیشگوئی کی درستگی میں اضافہ کیا جا سکے۔ جب تک محققین لیبارٹری کے نتائج اور ڈیجیٹل سمیولیشنز کے درمیان ایک موثر اور مسلسل رابطہ قائم نہیں کرتے، تب تک ادویات کی تیاری کے اخراجات میں کمی لانا اور وقت کی بچت کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اب جدید ڈیٹا سسٹمز میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز اتنے ہی اچھے ہوتے ہیں جتنا کہ ان کو فراہم کیا جانے والا ڈیٹا ہوتا ہے۔ اگر ڈیٹا کے حصول اور اس کے تجزیے کے درمیان کوئی خلا موجود رہے تو اس سے ادویات کی افادیت اور حفاظت سے متعلق سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا کے اس چکر کو مضبوط اور مربوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ ادویات کی دریافت کا سفر تیز تر، شفاف اور زیادہ قابلِ اعتماد بن سکے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا دارمدار اسی بات پر ہوگا کہ ہم سائنسی تحقیق کے دوران پیدا ہونے والے ڈیٹا کو کتنے بہتر انداز میں منظم اور مربوط کرتے ہیں۔