LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی اور اسپیس ایکس کے آئی پی اوز اور ماحولیاتی ڈیٹا کا بحران

News Image
دنیا کی سرکردہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ابتدائی عوامی پیشکش یعنی آئی پی او کی طرف گامزن ہیں لیکن ان کے پاس کاربن کے اخراج کا کوئی واضح ڈیٹا موجود نہیں۔ ماحولیاتی اعداد و شمار کی عدم موجودگی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق کے شعبے میں سرکردہ بڑی کمپنیاں جن میں اوپن اے آئی، اینتھروپک اور ایلون مسک کی ملکیت والی اسپیس ایکس شامل ہیں، اپنے ابتدائی عوامی حصص یعنی آئی پی او لانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ تاہم، ان تمام اداروں کے حوالے سے ایک بڑا تشویشناک نکتہ یہ سامنے آیا ہے کہ ان کے پاس کاربن کے اخراج سے متعلق کوئی خاطر خواہ یا شفاف ڈیٹا میز پر موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے ماحولیاتی تنظیموں اور تجارتی تجزیہ کاروں کو گہری سوچ میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ان تکنیکی دیو قامت اداروں کی طرف سے اخراج کے اعداد و شمار ظاہر نہ کرنے سے آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں جب سرمایہ کار ماحول دوست اور پائیدار کاروباری طریقوں کو اولیت دیتے ہیں، ایسے میں شفافیت کا فقدان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کاربن کے اخراج کا ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ یہ کمپنیاں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کس قسم کے خطرات کا شکار ہیں۔ اسپیس ایکس، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اپنے تجارتی حصص جاری کرنے سے پہلے ماحولیاتی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ اگر انہوں نے بروقت اپنے ماحولیاتی اثرات اور اخراج کے اعداد و شمار کو عوام اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش نہ کیا، تو عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ کمپنیاں آئی پی او سے قبل اس خلیج کو پر کرنے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی اپناتی ہیں یا نہیں۔