Technology
فلॉक کیمروں کا نگرانی نیٹ ورک پھیلانے کا منصوبہ بے نقاب
امریکہ میں پہلے ہی ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد فلॉक کیمرے سڑکوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک لیک ہونے والی دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی اپنے اے آئی سے چلنے والے نگرانی کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے پر غور کر رہی تھی۔
امریکہ بھر کی سڑکوں اور شاہراہوں پر پہلے ہی ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد فلॉक کیمرے نصب ہیں جو شہریوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک لیک شدہ دستاویز نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہ کمپنی اپنے اے آئی سے لیس نگرانی کے نیٹ ورک کو انتہائی بڑے پیمانے پر پھیلانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس انکشاف کے بعد ماہرینِ رازداری اور سول سوسائٹی کے اداروں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس قسم کے وسیع نظام سے عام شہریوں کی ذاتی زندگی کی رازداری بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کیمرے محض عام کیمرے نہیں ہیں بلکہ ان میں جدید ترین مصنوعی ذہانت اور نمبر پلیٹ شناخت کرنے کی صلاحیتیں موجود ہیں، جن کے ذریعے گاڑیوں اور افراد کی طویل عرصے تک ٹریکنگ کی جاتی ہے۔ لیک دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی نے حکومتی اور نجی سطح پر اپنے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے کئی ایسے منصوبوں پر غور کیا تھا جنہیں اب تک عوام سے خفیہ رکھا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی کا تسلسل ایک پولیس اسٹیٹ جیسی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے جہاں ہر شہری کی ہر حرکت کا ریکارڈ رکھا جاتا ہو۔
دوسری جانب، کمپنی کے ترجمان نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مقصد صرف جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد سڑکوں کو محفوظ بنانا ہے اور رازداری کے قوانین کا مکمل احترام کیا جاتا ہے۔ تاہم، ڈیجیٹل حقوق کے حامی اداروں کا کہنا ہے کہ جب تک اس قسم کے طاقتور نگرانی کے آلات پر سخت ضابطے اور شفافیت نافذ نہیں کی جاتی، اس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرات لاحق رہیں گے۔