LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز پر ایران کا دعویٰ اور ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنی مکمل تحویل اور کنٹرول میں قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جبکہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، اور اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو سختی سے رد کیا جاتا ہے۔ الجزیرہ کی لائیو اپ ڈیٹس کے مطابق تہران کا موقف ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی اور انتظامات ایران کی نگرانی میں چل رہے ہیں، اور کسی بھی بیرونی طاقت کو یہاں من مانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ دوسری جانب، سابق امریکی صدر اور اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے اس تنازع کے حوالے سے سخت بیانات دیے جا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں اور حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور دیگر جنگی امور پر سخت مؤقف اپنایا ہے، جس پر تہران نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملکی مفادات اور سمندری حدود کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اہم مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ فریقین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے دنیا کی سب سے اہم تجارتی شاہراہوں میں سے ایک ہے۔