Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، طلب اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال
مختلف رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ سرمایہ کار طلب میں متوقع کمی اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کمزور طلب کے آؤٹ لک اور امریکی ذخائر میں اضافے نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ سرمایہ کار عالمی سطح پر تیل کی کمزور طلب کے آؤٹ لک اور مشرق وسطیٰ کے جاری تناؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، طلب کے کمزور تخمینوں اور امریکی تیل کے ذخائر میں اضافے کی وجہ سے خام تیل کے دام نیچے آئے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کی رپورٹس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں توانائی کی کھپت میں سست روی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کے اردگرد کی صورتحال اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باوجود مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو وہ سہارا نہیں مل سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ روئٹرز اور سی این بی سی کی رپورٹس کے مطابق، سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جغرافیائی سیاسی خطرات طلب میں کمی کے اثرات کو زائل کر پائیں گے یا نہیں۔ اب تک کے اشارے یہی بتاتے ہیں کہ معاشی سست روی اور طلب کی کمی کے خدشات مارکیٹ پر زیادہ حاوی ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کا دارومدار بڑی معیشتوں کے صنعتی اعداد و شمار اور عالمی سطح پر ایندھن کی کھپت پر ہوگا۔ اگرچہ خطے میں کشیدگی کی وجہ سے سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں، لیکن طلب میں کمی کی پیشگوئیاں قیمتوں کو اوپر جانے سے روک رہی ہیں۔ تاجر اور سرمایہ کار احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور ہر نئی معاشی رپورٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔