World
ہنی ٹریپ کے ذریعے قتل کرنے والے مجرموں کو قید کی سزا
برطانیہ میں ہنی ٹریپ کے ذریعے مردوں کو نشانہ بنانے اور انہیں جی بی ایل نامی خطرناک نشہ دے کر قتل کرنے والے مجرموں کو عدالت نے طویل قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ مجرم خواتین اور ان کے ساتھی متاثرین کو بے ہوش کر کے ان کی قیمتی اشیاء چرا لیتے تھے اور غفلت کے باعث اموات واقع ہو جاتی تھیں۔
برطانیہ میں ہنی ٹریپ کے ایک ہولناک واقعے میں مردوں کو اپنے جال میں پھانسنے، انہیں خطرناک نشہ دینے اور پھر لوٹ مار کے دوران ہلاک کرنے والے مجرموں کو عدالت نے قانون کی گرفت میں لاتے ہوئے طویل قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران انکشاف ہوا کہ مجرموں نے ایک منظم سازش کے تحت معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا اور انہیں بے ہوش کرنے کے لیے جی بی ایل (GBL) نامی طاقتور نشہ آور دوا کا استعمال کیا۔ اس خطرناک اور مہلک عمل کا مقصد صرف مالی فوائد اور قیمتی اشیاء کا حصول تھا، لیکن مجرموں کی لاپرواہی اور حد سے زیادہ مقدار میں نشہ دینے کے باعث متعدد متاثرین جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس اور استغاثہ کی ٹیموں نے اس گھناؤنے جرم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے شواہد اکھٹے کیے اور مجرموں کے مجرمانہ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔ عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی ان سزاؤں کو معاشرتی سطح پر ایک اہم انصاف قرار دیا جا رہا ہے تاکہ اس طرح کے غیر قانونی ہتھکنڈوں اور خطرناک جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کے انسانی جانوں سے کھیلنے والے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور قانون ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹے گا۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جی بی ایل جیسی ادویات انتہائی خطرناک ہوتی ہیں اور تھوڑا سا غلط استعمال بھی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے کچھ حد تک اطمینان کا اظہار کیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کو سراہا ہے جنہوں نے اس پیچیدہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔