World
یمن میں حوثی حملے اور سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی
ماہرین کے مطابق حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب خطے کے اتحادیوں کے ساتھ اپنے پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر جامع جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں جاری کشیدگی اور حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا تو خطے میں ایک بار پھر همہ گیر جنگ بھڑک سکتی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران حوثی باغیوں کی طرف سے خطے کے اہم اہداف اور سمندری گزرگاہوں پر حملوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جس نے بین الاقوامی برادری بالخصوص خطے کے ممالک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال میں سعودی عرب انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے علاقائی اور بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی دفاعی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔
دوسری جانب، یمن میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین کے درمیان بات چیت بحال کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہیں تاکہ ایک اور تباہ کن فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ تاہم، زمین پر موجود حقائق اور عسکری کارروائیوں میں تیزی اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ تنازعہ کا پرامن حل فی الحال ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت اور سیکیورٹی تعاون کو بڑھانا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ناگہانی جارحیت کا موثر جواب دیا جا سکے۔
خطے کے معاشی اور تجارتی مفادات بھی اس صورتحال سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ یمن کے قریب واقع اہم سمندری گزرگاہوں پر حملوں کے خطرے کے پیش نظر عالمی سپلائی چین اور بحری تجارت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی نہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط کر رہے ہیں بلکہ وہ اس عزم کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر صورتحال ایک نئے مسلح تصادم کی طرف بڑھتی ہے۔