Sports
ویسٹ ہیم کے مانور سولو من کو سائن کرنے پر فلسطین حامی شائقین ناخوش
فٹبال کلب ویسٹ ہیم کی طرف سے اسرائیلی کھلاڑی مانور سولو من کو سائن کرنے پر فلسطین کے حامی شائقین نے گہرے رنج و غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ اٹھائیس سالہ اس کھلاڑی نے ماضی میں غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کیا تھا۔
انگلش پریمیئر لیگ کے معروف فٹبال کلب ویسٹ ہیم کی جانب سے اسرائیلی کھلاڑی مانور سولو من کو سائن کیے جانے کے بعد دنیا بھر میں فلسطین کے حامی فٹبال شائقین اور انسانی حقوق کے کارکنان کی طرف سے شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس اٹھائیس سالہ اسرائیلی کھلاڑی نے ماضی میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور نسل کشی کے دفاع میں بیانات دیے تھے، جس کی وجہ سے وہ شائقین کی کڑی تنقید کی زد میں ہیں۔ کلب کے اس فیصلے پر شائقین نے سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے ناپسندیدگی کا کھل کر اظہار کیا ہے۔
فٹبال شائقین کا مؤقف ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں ایسے کھلاڑیوں کو جگہ ملنا جو انسانی حقوق کی پامالیوں اور جنگی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، کھیلوں کے بنیادی اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔ ویسٹ ہیم کے حامیوں کی بڑی تعداد نے کلب کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر نظرثانی کرے اور شائقین کے جذبات کا احترام کریں۔ اس تنازع نے فٹبال کلبوں اور کھلاڑیوں کے سیاسی اور سماجی مؤقف پر ایک بار پھر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنے کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن کھلاڑیوں کے ذاتی بیانات اکثر کلبوں کے لیے دردِ سر بن جاتے ہیں۔
مانور سولو من کے حوالے سے پیدا ہونے والی اس صورتحال نے برطانوی فٹبال کے حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ کلب کی انتظامیہ کی طرف سے فی الحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم شائقین کا احتجاج دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں کھیل کے شائقین اب کھیلوں کے اداروں سے یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ اخلاقی اور انسانی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں گے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے مزید طول پکڑنے کا امکان ہے کیونکہ فلسطین کے حامی گروپس اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔