Politics
ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹروتھ سوشل کے خلاف نیا قانونی مقدمہ دائر
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل کی پوسٹس تک تیز رفتار رسائی فروخت کرنے کے منصوبے کے خلاف دو میڈیا گروپس نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ مدعیان کا کہنا ہے کہ یہ تجویز غیر معمولی، بدعنوانی پر مبنی اور من مانی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک نئے قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے جب بدھ کے روز دو سرکردہ میڈیا گروپس نے ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے مالک ادارے کے خلاف باقاعدہ مقدمہ دائر کر دیا۔ اس مقدمے کی بنیادی وجہ وہ متنازعہ منصوبہ ہے جس کے تحت ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس تک تیز رفتار اور براہ راست رسائی فروخت کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ میڈیا تنظیموں کا موقف ہے کہ یہ اقدام انتہائی غیر معمولی اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔
شکایت درج کرانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے تجارتی ہتھکنڈے معلومات تک رسائی کو محدود کرتے ہیں اور عوامی سطح پر وائرل ہونے والے پیغامات کو منافع کمانے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ درخواست میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایک عوامی شخصیت کے بیانات کو اس طرح مالی فوائد کے لیے استعمال کرنا اخلاقی اور قانونی دونوں اعتبار سے درست نہیں ہے۔ مقدمے میں عدالت سے استدعاء کی گئی ہے کہ اس منصوبے کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ مساویانہ رسائی کے اصول کو برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب ٹرمپ کی ٹیم اور ٹروتھ سوشل کے ترجمانوں نے اس مقدمے کو بے بنیاد اور سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم آزادانہ اظہار رائے کا ایک مضبوط ذریعہ ہے اور اس کے تجارتی امور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ یہ مقدمہ ڈیجیٹل میڈیا اور سیاسی شخصیات کے کاروباری مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر قائم کر سکتا ہے، جس کی سماعت آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گی۔