Technology
ایلکس کارپ کا بیان: اے آئی ٹیکنالوجی ارب پتیوں کو مزید مالدار بنائے گی
پلانٹیر ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلکس کارپ نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے اگلے دس سالوں میں ان کی دولت میں بیس گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران درمیانے طبقے کے کارکنوں کو صرف محدود اور معمولی معاشی فوائد ہی حاصل ہوں گے۔
پلانٹیر ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلکس کارپ نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے مستقبل اور معیشت پر اس کے گہرے اثرات کے حوالے سے انتہائی حقیقت پسندانہ اور واضح خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے عشرے میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے کاروباری استعمال کی وجہ سے ان کے ذاتی اثاثوں میں بیس گنا تک کا شاندار اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے انقلاب سے کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے رہنما اور سرمایہ کار سب سے زیادہ مستفید ہوں گے۔ دوسری طرف ایلکس کارپ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ عام مڈل کلاس ورکرز اور ملازمین کو اس دہائی میں اس پیمانے پر مالی فوائد حاصل نہیں ہوں گے اور ان کی آمدنی میں ہونے والا اضافہ انتہائی معمولی اور محدود نوعیت کا ہوگا۔ ان کے اس بیان نے ٹیک دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا اے آئی معاشی خلیج کو مزید وسیع کرے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کارپ کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی چند مخصوص افراد کے ہاتھوں میں دولت کے ارتکاز کا باعث بن رہی ہے، جس سے عام محنت کش طبقے کو خاطر خواہ ریلیف ملنے کی توقع کم ہی ہے۔ اس کے باوجود کاروباری حلقوں میں پلانٹیر کی کارکردگی اور اے آئی کی افادیت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگرچہ اے آئی پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا رہی ہے، لیکن اس کے منافع کی منصفانہ تقسیم ایک بہت بڑا چیلنج بن کر ابھر رہی ہے جس پر آنے والے برسوں میں دنیا بھر کی حکومتوں اور پالیسی ساز اداروں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔