Technology
مصنوعی ذہانت اور جی سی سی ورکرز کی ری اسکلنگ کی ضرورت
مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے کے تحت ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جی سی سی کے لگ بھگ 46 فیصد ورکرز کو آنے والے تین سالوں میں اپ اسکلنگ یا ری اسکلنگ کی اشد ضرورت ہوگی۔ یہ تبدیلی کاروباری ماڈلز اور ملازمتوں کی نوعیت میں انقلابی تبدیلیوں کی وجہ سے رونما ہو رہی ہے۔
نئی ٹیکنالوجیز اور بالخصوص مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی آمد کے بعد دنیا بھر میں ملازمتوں کا ڈھانچہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں ایک تازہ ترین رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق جی سی سی (GCC) کے کیپٹیو سینٹرز اور گلوبل کیپبلٹی سینٹرز کے تقریباً 46 فیصد افرادی قوت کو آنے والے تین سالوں کے اندر بڑی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان ملازمین کو اپنے شعبوں میں برقرار رہنے کے لیے یا تو اپ اسکلنگ کرنا ہوگی یا پھر مکمل طور پر ری اسکلنگ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کاروباری ماڈلز میں اے آئی کے انضمام کے بعد روایتی مہارتیں اب ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ کمپنیاں ایسے پروفیشنلز کی تلاش میں ہیں جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں اور ڈیٹا اینالیٹکس، مشین لرننگ اور آٹومیشن جیسے امور کو احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملازمین کو مارکیٹ کی نئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا ورنہ وہ ملازمت کے بازار میں پسماندہ رہ جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کو بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کی تربیت کے لیے جامع پروگرام شروع کریں تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کے دور میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔ اس سے نہ صرف ملازمین کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر کاروباری کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔ بصورت دیگر، مطلوبہ مہارتوں کی کمی کی وجہ سے پیداوار اور کارکردگی پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔