Technology
سوشل میڈیا اور اعتماد: بوکر لاؤڈ کا نیا وژن
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کا اعتماد بتدریج کم ہو رہا ہے حالانکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل مصروفیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارمز کی کامیابی کے لیے الگورتھمز سے ہٹ کر خالص انسانی اعتماد کو بحال کرنا ناگزیر ہے۔
جدید دور میں اگرچہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا کی مصروفیت اور استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ان پلیٹ فارمز پر صارفین کا اعتماد بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل ماحول میں یہ پلیٹ فارمز ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں، مگر ان کے ذریعے ہونے والے رابطوں اور تعاملات کے معیار پر ماہرین کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب مختلف ٹیکنالوجی رہنما آگے آ رہے ہیں۔
بوکر لاؤڈ، جو کہ پن (Pin) کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، نے اس حوالے سے ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو اب محض الگورتھمز کی بنیاد پر چلانے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ روایتی سوشل نیٹ ورکس صرف مواد کی نمائش اور ویوز بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، جس سے اکثر صارفین میں غلط فہمیاں اور عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ ایک پائیدار اور بھروسہ مند پلیٹ فارم کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈیجیٹل جعلسازی اور بے بنیاد مواد کی حوصلہ شکنی کرے اور حقیقی انسانی رابطوں کو فروغ دے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں وہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مارکیٹ میں کامیاب ہوں گے جو پرائیویسی اور شفافیت کو ترجیح دیں گے۔ صارفین اب محض تفریح یا انفارمیشن کے متلاشی نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک ایسا محفوظ ماحول چاہتے ہیں جہاں ان کا ڈیٹا محفوظ ہو اور انہیں مستند معلومات مل سکیں۔ بوکر لاؤڈ کا یہ وژن ڈیجیٹل انڈسٹری کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں کمپنیاں اپنے الگورتھمز میں تبدیلی لا کر صارف کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں۔
نیکسورا نیوز اردو کے مطابق، جیسے جیسے دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ رہا ہے، ریگولیٹرز اور صارفین دونوں کی طرف سے سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیک انڈسٹری منافع کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار اور عوامی اعتماد کی بحالی کو بھی اپنا بنیادی ہدف بنائے، تاکہ مستقبل کے سوشل نیٹ ورکس زیادہ ذمہ دار اور شفاف ثابت ہوں۔