Pakistan
بالا دیر فائرنگ، دہشت گردوں اور پولیس کا مقابلہ دوسرے روز بھی جاری
خیبر پختونخوا کے ضلع بالا دیر میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران دونوں جانب سے شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ حکام نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بالا دیر میں دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان مسلح تصادم شدت اختیار کرتے ہوئے دوسرے روز میں داخل ہو گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور وقفے وقفے سے شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس فورس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ شرپسند عناصر کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر مقامی آبادی میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انتظامیہ نے تمام قریبی راستوں کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ دوسری جانب اس واقعے پر سیاسی اور عسکری حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما انجینئر امیر مقام نے بالا دیر میں رہنما کی گاڑی پر ہونے والے حملے اور دہشت گردی کے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید نفری کو طلب کر لیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز مکمل مستعدی کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور جلد ہی علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرا لیا جائے گا۔