Pakistan
پاکستان کے 79 ویں یوم آزادی اور سیاسی و معاشی جائزہ
پاکستان کے تہترویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا جن میں جمہوریت کے استحکام اور نوجوانوں کی ترقی پر زور دیا گیا۔ ممتاز شخصیات نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
پاکستان کے تہترویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مختلف ماہرین اور اہم شخصیات کی جانب سے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کی حقیقی ترقی کے لیے جمہوری اداروں کا استحکام اور نچلی سطح پر طاقت کی منتقلی انتہائی ضروری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، پچھتر سے زائد سالوں کا سفر اس بات کا متقاضی ہے کہ پالیسی سازی میں عوام کی حقیقی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ معاشرے کے پسماندہ طبقات تک ترقی کے فوائد پہنچ سکیں۔
اس ضمن میں، مختلف فکری اداروں اور تھنک ٹینکس جیسے کہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) نے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جن میں تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات کو اجاگر کیا گیا۔ ان تقریبات کا بنیادی مقصد نئی نسل کو ملکی تاریخ سے روشناس کرانا اور اس بات کا اعادہ کرنا تھا کہ بانیانِ پاکستان نے کس قسم کے فلاحی ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ مقررین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک کی موجودہ مشکلات سے نکلنے کا واحد حل آئین و قانون کی بالادستی اور دیانت دار قیادت کا انتخاب ہے۔
دوسری جانب، تعلیمی اداروں میں بھی یوم آزادی کے حوالے سے پروقار تقریبات منعقد کی گئیں۔ جامعہ کراچی کے انرولمنٹ اور رجسٹریشن آفس سمیت دیگر اداروں میں آئی ڈی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جہاں نوجوان طلباء نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور اگر اس افرادی قوت کو مناسب تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکستان کے تہترویں سال کا یہ آڈٹ ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی ایک مربوط حکمت عملی بنائی جائے۔ مضبوط بلدیاتی نظام کا نفاذ، جمہوری روایات کا فروغ اور نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری ہی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔