LIVE
Loading Breaking News...

انگلینڈ میں عارضی رہائش گاہوں کے حامل بچوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

News Image
انگلینڈ میں عارضی رہائش گاہوں میں زندگی گزارنے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اٹھارویں سہ ماہی میں ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فلاحی تنظیموں اور ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انگلینڈ میں رہائشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور عارضی رہائش گاہوں میں رہنے والے بچوں کی تعداد مسلسل اٹھارویں سہ ماہی میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں خاندان مناسب مستقل رہائش نہ ہونے کی وجہ سے عارضی شیلٹرز، ہوٹلوں اور دیگر عارضی انتظامات میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال نے ملک کے فلاحی اداروں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک عارضی رہائش گاہوں میں رہنے کے باعث بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان مقامات پر اکثر بنیادی سہولیات کی کمی ہوتی ہے، پڑھائی کا مناسب ماحول نہیں ملتا اور بچوں کی صحت کے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں۔ مقامی کونسلز پر بھی اس بحران کی وجہ سے شدید مالی دباؤ ہے کیونکہ وہ بے گھر خاندانوں کو مستقل شیلٹر فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔ حکومتی ذرائع اور پالیسی ساز اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ فوری اور بڑے پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر افراط زر اور بڑھتے ہوئے کرایوں کے تناسب سے سستے گھروں کی تعمیر میں تیزی نہ لائی گئی تو یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ فلاحی اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بے گھر خاندانوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر طویل مدتی پالیسیاں بنائی جائیں۔