Politics
سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت 18 اگست کو
سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی سے ملاقات سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے لیے تین رکنی بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس نے اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی سے ملاقات کے لیے دائر کی جانے والی درخواستوں پر سماعت کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس اہم قانونی معاملے کی سماعت کے لیے ایک تین رکنی خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا ہے جو کہ آئندہ ماہ کی 18 تاریخ کو فریقین کے دلائل سنے گا۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اس پیش رفت کے بعد تمام متعلقہ فریقین کو باضابطہ طور پر نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہو سکیں۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اور خاندان کی جانب سے ان تک رسائی اور ملاقاتوں پر پابندیوں کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا تھا۔ ان درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ ملاقات کے حوالے سے عائد کردہ رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور قانونی تقاضوں کے مطابق رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ سیاسی تناؤ کے اس دور میں عدالت کی طرف سے اس معاملے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جانا انتہائی اہم اور چشم کشا سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ملکی سیاسی منظر نامے میں تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ حال ہی میں پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس یا دیگر سرکاری مقامات پر مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جس سے سیاسی گہما گہمی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے ملک کی مجموعی سیاسی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب تمام نگاہیں 18 اگست پر مرکوز ہیں جب سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔ فریقین کی جانب سے اس روز اہم دلائل دیے جانے کا امکان ہے اور عدالت کے فیصلوں سے آنے والے دنوں میں سیاسی و قانونی لائحہ عمل واضح ہوگا۔ ملک کے معروف وکلاء اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں اور عدالتی فیصلے کو سیاسی حلقوں میں انتہائی تجسس سے دیکھا جا رہا ہے۔