LIVE
Loading Breaking News...

گریجویٹ تنخواہیں اور بہترین یونیورسٹیاں: کون سے کورسز بہتر ہیں؟

News Image
نئی رپورٹ کے مطابق جامعات اور منتخب کردہ کورسز کا انتخاب گریجویٹس کی مستقبل کی آمدنی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ کچھ اداروں سے فارغ التحصیل طلباء کو فوری طور پر اعلیٰ ہنر مندانہ ملازمتیں مل جاتی ہیں جبکہ دیگر میں صورتحال مختلف ہے۔
یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک بہترین اور باعزت ملازمت حاصل کرنا ہر طالب علم کا بنیادی خواب ہوتا ہے، خاص طور پر موجودہ دور میں جب ڈگری کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، حالیہ رپورٹس اور اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اچھی ملازمت ملنے کے امکانات اس بات پر بہت زیادہ منحصر ہیں کہ آپ نے کس ادارے سے تعلیم حاصل کی ہے اور کون سا مضمون منتخب کیا ہے۔ تعلیمی میدان میں یہ فرق اب بہت واضح ہو چکا ہے کہ کچھ خاص جامعات کے فارغ التحصیل طلباء کو مارکیٹ میں فوری طور پر منہ مانگی تنخواہیں اور اعلیٰ عہدے مل جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بعض یونیورسٹیاں اور مخصوص کورسز ایسے ہیں جو طلباء کو عملی زندگی کے لیے انتہائی مؤثر طریقے سے تیار کرتے ہیں۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی اکثریت نہ صرف جلد ملازمت حاصل کر لیتی ہے بلکہ ان کی ابتدائی تنخواہیں بھی اوسط سے کافی زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، کچھ ایسے تعلیمی ادارے اور شعبے بھی موجود ہیں جہاں گریجویشن کے بعد اعلیٰ ہنر مندانہ کردار حاصل کرنے والے طلباء کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ اس صورتحال نے طلباء اور والدین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ وہ بھاری بھرکم فیسیں ادا کرنے کے باوجود متوقع مالی فائدہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا مشورہ ہے کہ طلباء کو صرف نام نہاد روایتی ڈگریوں کے پਿੱچھے بھاگنے کے بجائے مارکیٹ کی حقیقی ضروریات کو سمجھنا چاہیے۔ یونیورسٹی کے انتخاب کے وقت اس بات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کہ متعلقہ ادارہ اپنے طلباء کو ملازمت کی منڈی میں کامیابی کے لیے کیسی معاونت فراہم کرتا ہے۔ کورس کا نصاب کتنا جدید ہے اور کیا وہاں عملی تربیت کا کوئی معقول بندوبست موجود ہے یا نہیں۔ اس تمام صورتحال میں حکومت اور تعلیمی حکام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جامعات کے معیار کا سختی سے جائزہ لیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے تمام طلباء کے لیے یکساں اور بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔ والدین اور طلباء کو بھی چاہیے کہ وہ ایڈمیشن لینے سے پہلے روزگار کے اعداد و شمار کا باریک بینی سے مطالعہ کریں تاکہ مستقبل میں مالی اور ذہنی پریشانی سے بچا جا سکے۔