Business
کیون اولیری کے افراط زر پر تشویشناک خیالات اور کارپوریٹ منافع
فیکٹ سیٹ کی رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں ایس اینڈ پی 500 کی 86 فیصد کمپنیوں نے توقعات سے بہتر منافع درج کیا ہے۔ تاہم معروف سرمایہ کار کیون اولیری نے موجودہ معاشی صورتحال اور افراط زر کے حوالے سے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
کارپوریٹ امریکہ اس وقت شاندار اور ریکارڈ توڑ منافع حاصل کر رہا ہے، جہاں فیکٹ سیٹ (FactSet) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) میں شامل 86 فیصد کمپنیوں نے دوسری سہ ماہی میں اپنی آمدنی کے حوالے سے تمام اندازوں اور توقعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وال اسٹریٹ کے لیے یہ منظرنامہ انتہائی روشن دکھائی دیتا ہے کیونکہ منافع میں دہرے ہندسے کی نمو کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ کمپنیاں مشکل ترین معاشی حالات میں بھی اپنے مارجن کو بہتر بنانے میں کامیاب رہی ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بظاہر بلند سطح پر نظر آ رہا ہے۔
تاہم اس تمام تر معاشی خوشحالی اور منافع کے اس سیلاب کے درمیان معروف کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار کیون اولیری نے افراط زر کے موضوع پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ بڑی کارپوریٹ کمپنیاں ریکارڈ منافع کما رہی ہیں، لیکن عام معیشت اور افراط زر کے دباؤ کے حوالے سے کچھ بنیادی خطرات بدستور موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مالیاتی ماحول میں قیمتوں کا بڑھتا ہوا رجحان طویل المدتی بنیادوں پر عام صارفین اور چھوٹے کاروباروں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ وال اسٹریٹ کی خوشی اور زمینی حقائق کے درمیان یہ تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی کارپوریشنز اپنی قیمتوں میں ردوبدل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ مہنگائی کے اثرات کو اپنے منافع پر اثرانداز ہونے سے روک لیتی ہیں۔ اس کے برعکس، عام آدمی کو اشیائے خوردونوش، توانائی اور روزمرہ کی دیگر ضروریات کی مد میں مہنگائی کا شدید بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کیون اولیری کے خدشات اسی تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقتی کارپوریٹ کامیابی ملکی معیشت کی طویل مدتی صحت کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کے تجزیہ کار اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ ریکارڈ منافع کا تسلسل برقرار رہ پائے گا یا نہیں اور مرکزی بینک شرح سود کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ اگر افراط زر پر مکمل قابو نہ پایا گیا تو کارپوریٹ سیکٹر کو بھی مستقبل میں صارفین کی گھٹتی ہوئی قوت خرید کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی حلقوں میں کیون اولیری کی جانب سے اٹھائے گئے ان خدشات پر سنجیدہ بحث جاری ہے اور سرمایہ کار بھی محتاط رویہ اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں۔