LIVE
Loading Breaking News...

نوجوانوں میں اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال اور حقیقی میل جول کی ضرورت

News Image
کیلیفورنیا پارٹنرز پروجیکٹ کی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ نصف سے زائد نوجوان حقیقی زندگی میں میل جول کی کمی کا شکار ہیں۔ سروے میں شامل ادھی تعداد کا کہنا ہے کہ اگر ذاتی طور پر ملنے کے مقامات زیادہ ہوں تو وہ اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال کم کر دیں گے۔
کیلیفورنیا پارٹنرز پروجیکٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین تحقیقی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاست کے نصف سے زائد نوجوان حقیقی زندگی میں باہمی میل جول اور روبرو رابطوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس تحقیق میں ایک ہزار سے زائد کیلیفورنیا کے نوجوانوں کا سروے کیا گیا جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں نوجوان کیا چاہتے ہیں اور ان کی سماجی ترجیحات کیا ہیں۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ ڈیجیٹل آلات اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود نوجوان اب بھی حقیقی انسانی روابط کے متلاشی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل تقریباً نصف نوجوان مصنوعی ذہانت یا اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے پاس مل بیٹھنے اور تفریح کے لیے مناسب عوامی مقامات کی کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معاشرے میں ایسے مقامات کی تعداد بڑھا دی جائے جہاں وہ دوستوں سے روبرو مل سکیں اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں، تو وہ اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال نمایاں طور پر کم کر دیں گے۔ ماہرین نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح علامت ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں تنہائی کا شکار نوجوان اب روایتی سماجی زندگی کی طرف واپس لوٹنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت اور مقامی اداروں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسے محفوظ اور پرکشش مقامات بنائیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں اور باہمی میل جول کے ذریعے اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنا سکیں۔