Business
بھارت میں بائیو فیول پالیسیاں اور توانائی کی خود کفیلیت
بھارت کو قومی سلامتی کو مستحکم کرنے اور اندرونی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے بائیو فیول کے اقدامات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی یہ پالیسیاں ملک کو توانائی کے شعبے میں خودمختار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
نئی دہلی: قومی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور بیرونی انحصار کو کم کرنے کے لیے بھارت کو اندرونی توانائی کی پیداوار کی صلاحیتوں کو تیزی سے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے بائیو فیول کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جو ملک کو توانائی کے شعبے میں بڑی حد تک خود کفیل بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔ نوو نیسس کے ایک سینئر عہدیدار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ حکومتی پالیسیاں نہ صرف ماحولیاتی لحاظ سے سودمند ہیں بلکہ معاشی خودمختاری کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔
حالیہ برسوں کے دوران حکومت ہند نے پائیدار توانائی اور روایتی ایندھن کے متبادل ذرائع پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ ایتھنول بلینڈنگ کے حوالے سے بھارت اپنے طے شدہ اہداف سے بھی آگے چل رہا ہے، جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک اس سمت میں درست اور تیز رفتار اقدامات کر رہا ہے۔ بائیو فیول پالیسیوں کے نفاذ سے زرعی شعبے کو بھی نیا فروغ مل رہا ہے کیونکہ کسانوں کی تیار کردہ فصلوں اور زرعی فضلے سے متبادل ایندھن تیار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف درآمدی بل میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ ملک کے اندر ہی روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ نوو نیسس کے عہدیدار نے مزید کہا کہ طویل المدتی بنیادوں پر توانائی کے وسائل کو محفوظ بنانا کسی بھی ترقی پذیر معیشت کے لیے بنیادی شرط ہے۔ بھارت کی یہ پالیسیاں دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک بہترین مثال بنتی جا رہی ہیں جو توانائی کے بحران سے نبرد آزما ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت بائیو فیول اور گرین انرجی کے شعبے میں مزید اصلاحات اور مراعات کا اعلان کرے گی۔ اس سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ بھارت کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ سبز معیشت کی طرف منتقلی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا اور اپنی توانائی کی ضروریات کو ملکی سطح پر ہی پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔