LIVE
Loading Breaking News...

گوگل پিক্সেল ۱۱ ٹینسر جی ۶ چپ اور ٹو نینو میٹر ٹیکنالوجی

News Image
گوگل کے آنے والے اسمارٹ فون پিক্সেল ۱۱ میں استعمال ہونے والا ٹینسر جی ۶ چپ مبینہ طور پر صنعت کا پہلا ٹو نینو میٹر موبائل پروسیسر نہیں ہوگا۔ تکنیکی رپورٹس کے مطابق اسمارٹ فون انڈسٹری میں اس ٹیکنالوجی سے متعلق مزید مقابلے کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ گوگل کے آنے والے فلیگ شپ اسمارٹ فون پিক্সেল ۱۱ میں متوقع طور پر استعمال ہونے والا ٹینسر جی ۶ (Tensor G6) چپسیٹ دراصل اسمارٹ فون انڈسٹری کا پہلا ٹو نینو میٹر (2nm) پروسیسر نہیں ہوگا۔ اس انکشاف کے بعد ماہرین کی طرف سے مختلف آراء سامنے آرہی ہیں، کیونکہ اس سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ گوگل اس جدید ترین مینوفیکچرنگ نوڈ کو اپنے اگلے بڑے آلے میں متعارف کرانے والا پہلا ادارہ ہوگا۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موبائل پروسیسرز کی تیاری میں مسابقت انتہائی سخت ہو چکی ہے اور تمام بڑی کمپنیاں جدید ترین چپ ڈیزائنز پر کام کر رہی ہیں۔ دوسری جانب گوگل کی جانب سے پিক্সেল سیریز کے حوالے سے نئی تقریبات اور اپ ڈیٹس کا سلسلہ جاری ہے جن میں سمارٹ فونز کے ڈیزائن، اے آئی فیچرز اور ہارڈ ویئر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اگرچہ ٹینسر جی ۶ کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پہلا ٹو نینو میٹر چپ نہیں ہوگا، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پروسیسر پিক্সেল ۱۱ کی کارکردگی، توانائی کی بچت اور مصنوعی ذہانت کے امور کو نمٹانے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ صارفین اور ٹیک کے شوقین افراد ہمیشہ کی طرح گوگل کی جانب سے باضابطہ اعلانات اور لیک ہونے والی معلومات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں پিক্সেল ۱۱ کی سیریز اور اس کے ہارڈ ویئر سے متعلق مزید مستند تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، جس سے اس بات کا بھی واضح اندازہ ہو جائے گا کہ گوگل کا یہ نیا پروسیسر مارکیٹ میں موجود دیگر حریفوں کا مقابلہ کس طرح کرے گا۔