World
چین اور انڈونیشیا کی بحری مشقیں، تائیوان کا ردعمل
چین اور انڈونیشیا کے درمیان تائیوان کے قریب ہونے والی مشترکہ بحری مشقوں پر تائیوان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے ان مشقوں کی فوٹیج جاری کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
بیجنگ: چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے حال ہی میں ایک ایسی فوٹیج جاری کی گئی ہے جس نے خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فوٹیج میں چین اور انڈونیشیا کی افواج کو تائیوان کے مشرقی پانیوں میں مشترکہ بحری مشقیں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان مشقوں کے انعقاد کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس پیشرفت نے تائیوان کی حکومت کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ تائیوان کے حکام نے ان مشقوں کو اپنے خطے کے استحکام کے لیے چیلنج قرار دیا ہے۔
تائیوان کی وزارتِ دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان مشترکہ بحری مشقوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تائیوان کی جانب سے انڈونیشیا اور چین کے اس اقدام کو بین الاقوامی اصولوں اور خطے کی سلامتی کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ تائیوان کے سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کی عسکری سرگرمیاں تائیوان کی خودمختاری کو متاثر کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہیں، جس پر عالمی برادری کو بھی نوٹس لینا چاہیے۔
دوسری جانب، چینی حکام کا اصرار ہے کہ یہ مشقیں معمول کے مطابق ہیں اور ان کا مقصد دونوں دوست ممالک کے درمیان بحری سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو بہتر بنانا ہے۔ انڈونیشیا کی طرف سے بھی اس معاملے پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن تائیوان کے مشرقی ساحلوں کے قریب ہونے والی ان مشقوں نے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو گرما دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ انڈونیشیا کے لیے بھی سفارتی سطح پر توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔