World
مధ్య مشرق میں امریکی نیوی کے جہاز چھوڑنے کی اطلاعات پر تحقیقات کا مطالبہ
مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس لنکن کے عملے کی جانب سے جہاز چھوڑنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال کے بعد امریکی سینیٹرز نے مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ جہاز نے طویل عرصے سے کسی بندرگاہ پر لنگر نہیں ڈالا۔
مشرق وسطیٰ کے حساس ترین خطے میں تعینات امریکی بحریہ کے ایک بڑے طیارہ بردار جہاز کے عملے کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس لنکن نامی بحری جہاز پر خدمات انجام دینے والے کچھ امریکی سیلرز کی جانب سے جہاز چھوڑنے کی کوشش کی اطلاعات نے واشنگٹن میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد امریکی سینیٹرز نے اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس بحران کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور فوجیوں کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں یو ایس ایس لنکن نے ایک طویل ترین مدت تک کسی بھی بندرگاہ پر توقف یا لنگر انداز ہونے سے گریز کیا۔ ریکارڈ مدت تک سمندر میں مسلسل رہنے اور ساحلی شہروں سے کٹے رہنے کی وجہ سے جہاز پر موجود عملے کو شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس طویل تعیناتی کے دوران فوجیوں کو تفریح یا آرام کا کوئی موقع نہیں ملا، جس سے ان کی کارکردگی اور حوصلے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکہ کے کئی سرکردہ سینیٹرز نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پینٹاگون اور نیوی حکام سے جواب طلب کیا ہے۔ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے فرائض اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے فوجیوں کی نفسیاتی فلاح و بہبود اور انسانی حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پینٹاگون کے اعلیٰ حکام پر یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کی حقیقت سے پردہ اٹھائیں اور بحری بیڑے کے عملے کو فوری طور پر روٹیشن کی بنیاد پر طویل تعیناتیوں سے نجات دلائیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور امریکی افواج کو انتہائی الرٹ پوزیشن پر رکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل جنگی مہمات اور سمندر میں طویل قیام فوجیوں کی ذہنی حالت پر شدید بوجھ بنتے جا رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے دفاعی پالیسی سازوں کو فوری طور پر نئی حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کو مستقبل میں روکا جا سکے۔