World
روسی معیشت کو درپیش چیلنجز اور یوکرین کے حملے
یوکرین کے حملوں اور بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کی وجہ سے روسی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی آمدنی میں اضافے کے باوجود معاشی چیلنجز برقرار ہیں۔
ماسکو: دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی کے درمیان روسی معیشت کو کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف جہاں مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال اور تیل کی بلند قیمتوں کی وجہ سے ماسکو کو توانائی کی برآمدات سے اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف ملک کا بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ اور یوکرین کی طرف سے مسلسل فضائی اور زمینی حملے ملکی معیشت کی بنیادوں کو ہلا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگی اخراجات اور عالمی پابندیوں نے روس کے مالیاتی ڈھانچے کو طویل المدتی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یوکرین کی جانب سے روسی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف توانائی کی سپلائی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے بلکہ بحالی کے اخراجات نے بھی سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ اس کے باوجود کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا ہے اور روس کو تیل کی فروخت سے وقتی طور پر مالی ریلیف ملا ہے، یہ آمدنی ملک کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔
حکومت کو دفاعی ضروریات، اندرونی اقتصادی استحکام اور جنگی محاذ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بجٹ میں ردوبدل کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں نے روس کی رسائی کو جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی منڈیوں تک محدود کر رکھا ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ اگرچہ روسی حکام کی جانب سے معیشت کے استحکام کے لیے مختلف دفاعی اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، اگرچہ تیل کی بلند قیمتیں روس کے لیے عارضی آکسیجن کا کام کر رہی ہیں، لیکن یوکرین کے حملے اور بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ روسی معیشت مشکلات سے دوچار ہے۔ عالمی معاشی تجزیہ کار اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ طویل جنگی ماحول کسی بھی مضبوط معیشت کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں روس کی معاشی پالیسیاں اور جنگ کا رخ ہی طے کرے گا کہ ماسکو اس دباؤ کو کتنی دیر تک برداشت کر پاتا ہے۔