World
اسکول کے اخراجات پورے کرنے کے لیے والدین کے جوئے کا سہارا لینے کا انکشاف
ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ اسکول کھلنے کے موقع پر بچوں کے لیے ضروری اشیاء خریدنے کے لیے والدین انتہائی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ مالی مشکلات کے باعث والدین جوئے کا سہارا لینے اور قیمتی اشیاء گروی رکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ نے والدین کی مشکلات میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بنیادی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے خطرناک اور غیر معمولی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہیں۔ دو ہزار والدین پر مشتمل ایک نئے اور چونکا دینے والے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسکول کے نئے سیزن کے لیے بچوں کو درکار سامان خریدنے کی خاطر متعدد والدین نے جوئے کا سہارا لیا، اپنی قیمتی ذاتی اشیاء کو گروی رکھا اور بھاری سود پر قرضے حاصل کیے۔ اس صورتحال نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے مالی بحران اور غریب و متوسط طبقے کے کسمپرسی کے عالم کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سروے کے مطابق، اسکول شروع ہونے سے پہلے بچوں کے یونیفارم، کتابیں، کاپیاں اور دیگر اسٹیشنری کا سامان خریدنا والدین کے لیے ایک بہت بڑا مالی چیلنج بن چکا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ لہر کی وجہ سے گھر کا بجٹ پہلے ہی شدید متاثر ہے، جس کے باعث والدین کے پاس روایتی ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کے راستے بند ہو چکے ہیں۔ مجبوری کے اس عالم میں کچھ والدین نے جوئے کے اڈوں کا رخ کیا تاکہ راتوں رات رقم کما کر بچوں کی اسکول فیس اور کاپیاں خریدی جا سکیں، جب کہ دیگر نے اپنے گھر کے قیمتی زیورات اور اشیاء کو مقامی گروی خانوں میں رکھ کر عارضی نقدی حاصل کی۔
ماہرین معاشیات اور فلاحی اداروں نے اس تشویشناک صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور تعلیمی ادارے اسکول کے سامان اور فیسوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات نہیں اٹھاتے، تو غریب خاندان مزید گہرے مالی دلدل میں دھنس جائیں گے۔ اس نوعیت کے انتہائی اقدامات سے نہ صرف گھریلو سکون اور خاندانی نظام تباہ ہو رہا ہے بلکہ بچوں کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ والدین کی جانب سے جوئے اور قرضوں کا یہ رجحان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ معاشرے کا پسماندہ طبقہ موجودہ اقتصادی نظام کے تحت کس قدر شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔